سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 231
۲۳۱ واقعات نے ثابت کر دیا کہ یہ کشوف خدا کی طرف سے تھے کیونکہ ان میں آپ کو جو کچھ دکھایا گیا اسی طرح وقوع پذیر ہوا اور اب تک ہو رہا ہے اور آئندہ ہو گا۔اب دیکھو کہ اس عظیم الشان پہلو کے مقابلہ پر محض ظاہری اور جسمانی سفر کو کیا حقیقت حاصل ہے۔اگر ان سفروں کو ظاہری جسمانی سفر قرار دیا جائے تو اس سے زیادہ اس کے معنے نہیں بنتے کہ خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کے ماتحت آپ کو ایک خارق عادت رنگ میں جسمانی طور پر مکہ سے اُٹھا کر بیت المقدس تک پہنچا دیا اور زمین سے اُٹھا کر آسمانوں کی سیر کرادی۔یہ بیشک ایک بہت پر لطف اور مقتدرانہ نظارہ سمجھا جاسکتا ہے مگر اسے اس عظیم الشان حقیقت سے جو ان روحانی مناظر میں مخفی ہے جس کا دامن ہجرت یثرب سے لے کر گویا قیامت تک پھیلا ہوا ہے کچھ دور کی بھی نسبت نہیں مگر افسوس ہے کہ خود مسلمان کہلانے والوں کا ایک طبقہ بھی اسے ایک عجوبہ نمائی سے زیادہ حیثیت نہیں دینا چاہتا؟ حالانکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان روحانی مناظر میں اس کے بڑے بڑے نشانات مخفی ہیں۔یہ بھی یا درکھنا چاہیئے کہ اس قسم کے کشوف کم و بیش سبھی انبیاء کو ہوتے آئے ہیں اور سارے نبیوں کو ہی اُن کی اُمتوں کے آئندہ حالات کافی الجملہ نظارہ کرایا جاتا رہا ہے اور اسی لئے بعض صوفیا نے لکھا ہے کہ معراج بھی ہر نبی کو ہوا ہے اور حضرت موسیٰ کے کشف روحانی کا ذکر تو خود قرآن شریف میں بھی آتا ہے مگر فکر ہر کس بقدر ہمت اوست۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو نظارہ دکھایا گیا اور جو معراج آپ کو نصیب ہوا وہ اپنی بلندی اور اپنی وسعت اور اپنے گونا گوں کوائف میں ایک ایسی ارفع شان رکھتا ہے جو کسی دوسرے کو حاصل نہیں۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّالِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلِّمُ معراج اور اسراء کے وقوع کی تاریخ کے متعلق مؤرخین میں اختلاف ہے مگر روایات کا کثیر حصہ اس طرف گیا ہے کہ یہ نظارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت یثرب سے کچھ عرصہ پہلے دکھلائے گئے تھے اور کم از کم اسراء کے کشف کی جو تشریح ثابت ہوتی ہے وہ اسی خیال کی مؤید ہے کہ اسراء کا کشف ہجرت کے قریب ہی ہوا تھا اور امام بخاری نے بھی جن کا پایہ روایت میں بہت بلند مانا گیا ہے اسراء اور معراج کو ہجرت کے واقعات سے معا پہلے لکھا ہے۔ہے پس اکثر مورخین کا یہ خیال درست معلوم ہوتا ہے کہ اسراء اور معراج ہجرت سے کم و بیش ایک سال پہلے وقوع پذیر ہوئے اس طرح ان کا زمانہ ۱۲ نبوی یا ابتداء۱۳ قرار پاتا ہے۔اور اسراء کے متعلق تو یقیناً یہی صحیح ہے گو معراج کا واقعہ غالبا اس سے پہلے کا ہے۔ان کی آپس کی ترتیب کے متعلق بھی مؤرخین میں اختلاف ہے۔جو لوگ ان دونوں سفروں کو ایک ہی سفر یا ایک ہی سفر لے: دیکھئے سورۃ کہف : ۶۱ تا ۸۳ ے : بخاری کتاب بدء الخلق