سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 229
۲۲۹ تعبیر سے خارج ہے لیکن پچاس سے پانچ تک کی کمی کا منظور ہونا ایک نہایت لطیف روحانی نظارہ ہے جس میں اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ اصل تعداد جو فرض کی جانیوالی تھی وہ پانچ ہی تھی مگر ساتھ ہی یہ مقدر تھا کہ ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس کے برابر ملے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ منشا تھا کہ اُمت محمدیہ کو ان کی نیکیوں کا بدلہ بڑھ چڑھ کر عطا کیا جائے ، اس لیے یہ نمازیں ابتدا میں پچاس کی صورت میں فرض کی گئیں اور پھر ایک لطیف رنگ میں جس میں ضمنی طور پر اللہ تعالیٰ کی شفقت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رافت کا اظہار بھی مقصود ہے یہ تعداد گھٹا کر پانچ کر دی گئی اور باتوں باتوں میں مسلمانوں کو یہ بھی بتا دیا گیا کہ تمہارے متعلق یہ اندیشہ کیا گیا ہے کہ تم ان پانچ نمازوں کی ادائیگی میں بھی سستی نہ دکھاؤ۔اس لیے دیکھنا تم اس میں سست نہ ہونا۔ان حقائق کے علاوہ معراج میں اور بھی بہت سے اشارات تھے مگر ایک تاریخی مضمون میں اس سے زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں نکالی جاسکتی۔اسراء کا واقعہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے اس تعلق کی طرف اشارہ کرنے والا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اُمت کو عنقریب دوسری اُمتوں کے ساتھ پڑنے والا تھا نیز اس میں اُن آزمائشوں پر متنبہ کرنا مقصود تھا جو آپ کے متبعین کو ان کی ترقی کے زمانہ میں پیش آنے والی تھیں۔اس واقعہ میں سب سے پہلا اشارہ یہ تھا کہ اب جو اسلام پر ایک تنگی کا زمانہ ہے اسے ہم عنقریب دور کر دیں گے اور مصائب کی موجودہ تاریکی دن کی روشنی میں بدل جائے گی۔چنانچہ آیت اسراء میں ”رات کا لفظ استعمال کیا جانا اسی حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کیونکہ تصویری زبان میں تنگی اور مصیبت کا زمانہ رات کے وقت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔پھر اس سفر کی ابتدا اور انتہا کے لیے مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کے الفاظ کا بیان کیا جانا اس غرض سے ہے کہ اے مسلمانو ! اب تک تمہارا واسطہ صرف قدیم عربی مذہب و تمدن کے ساتھ رہا ہے جس کا مرکز مسجد حرام ہے لیکن اب وقت آتا ہے کہ عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ بھی تمہارا واسطہ پڑے گا اور تمہاری توجہ کا مرکز مسجد حرام سے وسیع ہو کر یہودیوں اور عیسائیوں کے مذہبی مرکز بیت المقدس تک جاپہنچے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ہجرت کے بعد اسلام کا محاذ غیر معمولی طور پر وسیع ہو کر یہودیت اور میسحیت کے مقابل پر آ گیا اور اسراء میں جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ لفظ بلفظ پوری ہوئی۔اس کے بعد بُراق کی سواری کا منظر ہے جس کے متعلق اوپر اشارہ کیا جا چکا ہے کہ اس سے یہ مرا تھی کہ جو مقابلہ دوسری قوموں کے ساتھ مسلمانوں کو پیش آنے والا ہے اس میں بیشک مسلمانوں کی کامیابی بظاہر مادی اسباب کے ماتحت نظر آئے گی مگر ان اسباب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک غیر معمولی طاقت