سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 227 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 227

۲۲۷ سب شریعتوں سے فائق و برتر ہے بلکہ آپ کے فیضان روحانی میں وہ خصوصیت رکھی گئی ہے جو پہلے کسی بشر کو حاصل نہیں ہوئی یعنی آپ کی سچی اور کامل پیروی انسان کو بلند ترین روحانی مدارج تک پہنچا سکتی ہے اور کوئی روحانی مرتبہ ایسا نہیں ہے جہاں تک آپ کی پیروی کی برکت سے انسان نہ پہنچ سکتا ہو۔آپ سے پہلے جتنے بھی نبی آئے وہ بیشک اپنے متبعین کے لیے سرا سر رحمت و برکت بن کر آئے اور بیشک انہوں نے اپنے پیچھے چلنے والوں کے لیے خدائی انعامات کے دروازے کھولے لیکن آپ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس کی پیروی انسان کو انتہائی کمالات تک پہنچانے کے لیے کافی ہو اور اسی لیے پہلی اُمتوں میں اللہ تعالیٰ کا یہ طریق تھا کہ جب کوئی شخص کسی نبی کی کامل پیروی کے نتیجہ میں ترقی کر کے اس انتہائی روحانی حد تک پہنچ جاتا تھا جہاں تک یہ پیروی اُسے لے جا سکتی تھی تو اس کے بعد اگر یہ شخص اپنی استعداد اور شوق اور کوشش کے لحاظ سے مزید روحانی ترقی کے قابل ہوتا تھا تو خدا تعالیٰ اُسے براہِ راست موهبت اور انعام کے رنگ میں اوپر اٹھا لیتا تھا جس میں اس کے نبی متبوع کی پیروی کا کوئی دخل نہیں ہوتا تھا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ اعلیٰ اور ارفع مقام ہے کہ ایک انسان آپ کی اتباع میں ہی جملہ قسم کے روحانی مقامات تک پہنچ سکتا ہے اور یہی وہ خصوصیت ہے کہ جس کی طرف آپ کی اس روحانی پرواز میں اشارہ کیا گیا ہے جو معراج کے سفر میں آپ کو کرائی گئی اور اسی حقیقت کی طرف قرآن شریف کی اس آیت میں اشارہ ہے کہ: وَلكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيْنَ یعنی "محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) صرف ایک رسول ہی نہیں بلکہ خاتم النبین بھی ہیں۔“ جن کی مہر تصدیق سے انسان کو ہر قسم کے اعلیٰ ترین روحانی انعامات مل سکتے ہیں اور کوئی روحانی مرتبہ آپ کے اشباع کی رسائی سے باہر نہیں ہے۔معراج میں جن نبیوں کے ساتھ آپ کی ملاقات ہوئی وہ یہ ہیں : حضرت آدم ، حضرت عیسی ، حضرت سکی ، حضرت یوسف، حضرت ادریس ، حضرت ہارون ، حضرت موسیٰ اور حضرت ابرا ہیم علیہم السلام۔ان آٹھ نبیوں میں سے دو تو صرف ایک ضمنی تعلق کی وجہ سے اس نظارہ میں آئے ہیں۔یہ دو نبی حضرت بیچی اور حضرت ہارون ہیں جن میں سے مقدم الذکر نبی حضرت عیسی کے خالہ زاد بھائی ہونے کے : مسلم ابواب الاسراء عَنْ ثَابِتٍ بَنَا نِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكِ : سورۃ احزاب : ۴۱