سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 226 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 226

۲۲۶ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود میں وہ عظیم الشان ہستی مبعوث ہوئی ہے جو سید ولد آدم اور فخر اولین و آخرین ہے اور خدا کی طرف سے یہ مقدر ہو چکا ہے کہ آپ کی اُمت کا قدم ان سب اُمتوں پر بالا وارفع رہے۔حضرت موسی" چونکہ ایک خاص سلسلہ کے بانی ہونے کی وجہ سے ان رموز سے زیادہ آشنا تھے۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پرواز روحانی کی حقیقت کو فوراً سمجھ لیا اور اس طبعی رشک کی وجہ سے جو فطرت انسانی کا خاصہ ہے (نہ کہ کسی حسد کی بنا پر ) اس انکشاف نے انہیں وقتی طور پر غم میں ڈال دیا کہ ایک پیچھے آنے والا نوجوان اُن سے آگے نکلا جارہا ہے۔اسراء میں حضرت ابرا ہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی کا راستہ پر کھڑے ہو کر آپ کو اول اور آخر اور حاشر کہہ کر پکارنا اور سلام کرنا بھی اپنے اندر یہی لطیف اشارہ رکھتا ہے کہ ”اے نبیوں کے سرتاج ہم پہچان گئے ہیں کہ گو آپ سب انبیاء کے آخر میں مبعوث ہوئے ہیں مگر رتبہ کے لحاظ سے آپ ہی سب سے اول ہیں اور آپ ہی نسل آدم کا وہ مرکزی نقطہ ہیں جس کے قدموں میں مختلف اقوام عالم کا جمع ہونا مقدر کیا گیا ہے۔پس لیجئے ہماری طرف سے سلام اور دعا کی پیش کش حاضر ہے اسے قبول کیجئے۔“ مندرجہ بالا غرض و غایت کے اظہار کے علاوہ جو معراج اور اسراء ہر دو میں مقصود ہے ان روحانی سفروں کی علیحدہ علیحدہ غرض اور علیحدہ علیحدہ تشریح بھی ہے اور جہاں تک ہم نے غور کیا ہے وہ یہ ہے کہ معراج تو زیادہ تر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی کمالات کے اظہار کے لیے ہے اور اسراء آپ کی ظاہری اور دنیوی ترقی کو ظاہر کرنے کے واسطے ہے۔اسی لیے جہاں معراج کے واسطے آسمان کو چنا گیا اسراء کا آخری نقطہ زمین رکھی گئی ہے۔اسی طرح جہاں معراج میں آپ کا بغیر کسی سواری اور بغیر کسی ظاہری اور مادی واسطہ کے اوپر اٹھایا جانا بیان ہوا ہے وہاں اسراء میں بُراق کی سواری کا واسطہ رکھا گیا ہے تا کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ آپ کی اور آپ کے اتباع کی دنیوی اور ظاہری ترقی میں مادی اسباب کا بھی دخل ہوگا گوجیسا کہ بُراق کی غیر معمولی رفتار میں اشارہ کیا گیا ہے۔یہ مادی اسباب محض ایک پردہ کے طور پر ہوں گے اور اصل سبب وہ غیبی تائید ہوگی جو ہر قدم پر آپ کے ساتھ رہے گی۔معراج میں آپ کا سب نبیوں سے آگے نکل جانا اس بات کی طرف اشارہ رکھتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ آپ اپنے مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے سب سے بالا اور ارفع ہیں اور نہ صرف یہ کہ آپ کی لائی ہوئی شریعت اپنے روحانی کمالات میں ا ل : حاشر کے معنی جمع کر نیوالے کے ہیں۔یعنی مراد یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ہر قوم اور ہر ملک کی طرف الگ الگ رسول مبعوث ہوتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام اقوام عالم اور تمام عالم کے لیے مبعوث کیے گئے۔منہ