سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 199 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 199

۱۹۹ وجہ سے آپ کو بہت محبوب تھی اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ اپنی محبوب بیوی پر کوئی شخص یونہی بلا خاص وجہ کے سوت نہیں لا یا کرتا۔پس حضرت عائشہ کے ہوتے ہوئے آپ کا حضرت سودہ جیسی عمر رسیدہ خاتون کے ساتھ نکاح کرنا صاف بتا رہا ہے کہ نعوذ باللہ یہ کوئی عیش وعشرت کا سامان نہ تھا جو آپ اپنے گھر لا رہے تھے بلکہ یہ ایک قربانی تھی جو آپ کو حالات پیش آمدہ کے ماتحت کرنی پڑی تھی۔پس آپ کی اصل اور مستقل تجویز حضرت عائشہ ہی کے لیے تھی جن کے متعلق خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ ہوا تھا اور وہی دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے مناسب بھی تھیں کیونکہ: اول :- وہ بالکل نو عمر لڑکی تھیں اور اس لیے پوری طرح اس قابل تھیں کہ اسلامی تعلیمات کو جلد، بآسانی اور بخوبی سیکھ کر ایک دینی معلمہ بن سکیں جو ایک شارع نبی کی بیوی کے واسطے ضروری ہے۔دوسرے :۔وہ نہایت درجہ ذہین اور ذکی تھیں جس کی وجہ سے دینی مسائل کے سیکھنے اور تفقہ فی الدین کے لیے نہایت مناسب تھیں۔تیسرے:۔بوجہ کم عمر ہونے کے ان کے متعلق بظاہر توقع تھی جو پوری بھی ہوئی کہ وہ ابھی بہت لمبی عمر پائیں گی اور اس طرح انہیں مسلمان عورتوں میں تعلیم و تربیت اور تبلیغ کا زیادہ موقع مل سکے گا۔چوتھے :- اسلام ہی میں اُن کی پیدائش ہوئی تھی جس کی وجہ سے اسلامی تعلیم گویا اُن کی گھٹی میں پڑی تھی اور بچپن سے ہی اُنہوں نے اسلامی عادات واطوار اچھی طرح سیکھ لیے تھے اور تعلیم اسلامی کا ایک بہت عمدہ نمونہ تھیں۔پانچویں:۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وہ اوّل المومنین اور افضل المسلمین کی صاحبزادی تھیں جس کی وجہ سے ان کی تربیت نہایت اعلیٰ اور کامل اور شعار اسلامی کے عین مطابق ہوئی تھی اور اس لیے وہ عورتوں میں نمونہ بننے کے خاص طور پر قابل تھیں۔ان وجوہات سے حضرت عائشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ بننے کے واسطے سب سے بڑھ کر مناسب تھیں اور انہی وجوہ کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے آپ کے واسطے ان کو پسند فرمایا؛ چنانچہ یہ باتیں اپنا پھل لائیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عائشہ کے وجود سے امت محمدیہ کو بڑے بڑے فائدے پہنچے ہیں۔احادیث کا وہ حصہ جو عورتوں کے مسائل سے تعلق رکھتا ہے زیادہ تر حضرت عائشہؓ ہی کے اقوال وروایات پر مبنی ہے۔پھر یہی نہیں بلکہ عام دینی مسائل میں بھی ان کو ایک خاص مرتبہ حاصل ہے؛ چنانچہ روایت آتی ہے کہ: