سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 198 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 198

۱۹۸ تو ہمارے بھائی ہیں۔مگر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہلا بھیجا کہ دین کی اخوت سے رشتہ پر اثر نہیں پڑتا تو پھر انہیں کیا عذر ہو سکتا تھا بلکہ ان کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا خوشی ہو سکتی تھی کہ اُن کی بیٹی رسول خدا کی بیوی بنے۔اس کے بعد خولہ حضرت سودہ بنت زمعہ کے پاس گئیں۔وہ اور ان کے عزیز بھی راضی تھے۔لہذا شوال ۱۰ نبوی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ان ہر دو کے ساتھ چار چار سو درہم مہر پر نکاح پڑھا گیا اور حضرت سودہ کا تو نکاح کے ساتھ ہی رُخصتانہ بھی ہو گیا لیکن چونکہ عائشہ کی عمر اس وقت صرف سات سال کی تھی اس لیے ان کا رخصتانہ ہجرت کے بعد تک ملتوی رہا ہے اس موقع پر یاد رکھنا چاہیے کہ جو جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم میں خدیجتہ الکبری کی وفات سے خالی ہوئی تھی وہ دراصل حضرت عائشہ سے ہی پُر ہوئی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصل تجویز حضرت عائشہ ہی کے متعلق تھی اور وہی آپ کو خواب میں بھی دکھائی گئی تھیں لیکن حضرت سودہ کا نکاح ایک خاص مصلحت اور خاص ضرورت کے ماتحت تھا اور وہ یہ کہ چونکہ یہ زمانہ مسلمانوں کے واسطے ایک سخت تکلیف اور مصیبت کا زمانہ تھا اور ظالم قریش کی طرف سے سب مسلمان مردوں ، عورتوں اور بچوں پر جور و جفا کے تبر چل رہے تھے اور خصوصاً بے یارومددگار غرباء کے لیے تو یہ انتہائی مصائب کے دن تھے اس لیے ایسی حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ گوارا نہ کیا کہ وہ صدمہ خوردہ اور غم رسیدہ بیوہ بغیر کسی انتظام کے چھوڑ دی جاوے اور اسلام کی وجہ سے مصیبت کے دن کاٹے اس لیے اور نیز اس لیے بھی کہ آپ نے مسلمانوں کو آپس میں محبت رکھنے اور ایک دوسرے کی ہمدردی اور مدد کرنے کا عملی سبق بھی دینا تھا۔جب آپ کے سامنے سورہ کا ذکر آ گیا تو آپ نے بلا تامل یہی فیصلہ کیا کہ آپ انہیں خود اپنے سایہ عاطفت میں لے لیں اور یہ آپ کی طرف سے ایک قربانی تھی جو حالات پیش آمدہ کے ماتحت کی گئی۔کیونکہ اول تو سودہ ایک بیوہ تھیں۔دوسرے وہ اچھی عمر رسیدہ تھیں۔حتیٰ کہ شادی سے تھوڑے ہی عرصہ بعد وہ مباشرت کے بالکل نا قابل ہو گئیں۔تیسرے اُن میں آپ کی زوجیت کے واسطے کوئی امتیازی قابلیت بھی یہ تھی اور نہ کوئی خاص وجہ کشش تھی۔پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ اُن کا آپ کے حرم میں آنا یہ معنے رکھتا تھا کہ آپ اپنی اس بیوی پر ایک سوت لا رہے ہیں جو خدائی انتخاب کے ماتحت آپ کی زوجہ بنی تھی اور اس لے : اس وقت تک صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا اخوت کا رشتہ سمجھتے تھے مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ رشتہ اخوت کا نہیں بلکہ امنیت اور ابوت کا ہے لیکن یہ کہ اس روحانی رشتہ کا اثر جسمانی رشتوں پر نہیں ہے۔: زرقانی واسدالغابه