سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 200 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 200

كَانَ الْأَكَابِرُ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجِعُونَ إِلَى قَوْلِهَا يَسْتَفْتُونَهَا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے بڑے صحابہ بھی حضرت عائشہ کے قول کی طرف رجوع کرتے اور ان سے فتویٰ پوچھتے تھے۔“ غرض اصل اور مستقل تجویز آپ کی حضرت عائشہ سے تھی اور وہی اس منصب عالی کے لائق تھیں۔باقی رہی حضرت سودہ بنت زمعہ کی شادی۔سو جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں وہ ایک قربانی تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کی کیونکہ یہ شادی ایک خاص مر بیا نہ اصول کے ماتحت تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دلی محبت اور قلبی توجہ اور حقیقی مہربانی کا ایک بین ثبوت ہے جو آپ ان مصائب کے زمانہ میں اپنے خدام اور ان کے پسماندگان کے حال پر فرماتے تھے اور یہ بات حضرت سودہ کی ہی شادی کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جیسا کہ آگے چل کر اپنے اپنے موقع پر ظاہر ہو جائے گا حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد حضرت عائشہ کے نکاح کے سوا جو کہ خود بالذات مقصود تھا باقی جتنے بھی نکاح آپ نے کیے وہ سب خاص حالات، خاص ضروریات اور خاص مصالح کے ماتحت کئے گئے ؛ چنانچہ آپ کا خواب بھی یہی ظاہر کرتا ہے جس میں آپ کو صرف حضرت عائشہ کی تصویر دکھائی گئی تھی اور یہ الفاظ کہے گئے تھے کہ اب تیری یہ بیوی ہے دنیا اور آخرت میں۔اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ سے خاص محبت تھی۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ کسی شخص نے آپ سے دریافت کیا۔ای النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ “ یعنی یا رسول اللہ ! لوگوں میں سے آپ کو کس سے زیادہ محبت ہے؟ آپ نے فرمایا: ” عائشہ سے۔اس ،، نے پوچھا یا رسول اللہ مردوں میں سے کس سے زیادہ ہے؟ فرمایا: ابوھا۔عائشہ کے باپ سے۔“ حضرت عائشہ اور حضرت سودہ کا نکاح شوال ۱۰ نبوی میں ہوا تھا اور عام روایات کے مطابق حضرت سودھ کے نکاح کی رسم حضرت عائشہ کے نکاح سے چند روز پہلے وقوع میں آئی تھی۔اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچاس سال سے او پر تھی۔تعدد ازدواج پر ایک مختصر نوٹ حضرت عائشہ اور حضرت سودہ کی شادی کے ذکر میں ہمارے غیر مسلم ناظرین کے دل میں تعدد ازدواج کا مسئلہ ضرور کھٹکا ہوگا۔اس مسئلہ کے متعلق مفصل بحث تو انشاء اللہ کتاب کے حصہ دوم میں آئے گی مگر اس جگہ بھی ایک مختصر زاد المعاد : ترندی جلد ۲ باب فَضْلُ عَائِشَةَ