سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 197
۱۹۷ آسان ہو جاوے؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر گذشتہ انبیاء علیہم السلام تعدد ازدواج کے مسئلہ پر کار بند تھے۔انبیائے بنی اسرائیل میں سے بھی کثرت ایسے ہی نبیوں کی تھی جن کی ایک سے زائد بیویاں تھیں یے اور تعجب ہے کہ عیسائی لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر اس مسئلہ کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں مگر اپنے ان بزرگوں کی طرف نہیں دیکھتے جن کو وہ خدا کے مقرب اور برگزیدہ رسول یقین کرتے ہیں۔اسی طرح دوسری قوموں کے بھی اکثر نبی تعدد ازدواج پر عامل تھے۔غرضیکہ شادی کرنا بلکہ حتی الوسع ایک سے زیادہ شادیاں کرنا انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے۔لہذا حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جلد ہی دوسری شادی کا خیال آنا آپ کے منصب نبوت کے لحاظ سے ایک طبعی امر تھا مگر ایسے حالات میں ایک نبی کے واسطے بیوی کا انتخاب بھی کوئی آسان کام نہیں ہوتا کیونکہ کئی باتوں کو دیکھنا اور کئی امور کا لحاظ رکھنا ہوتا ہے لہذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیں کہ وہ اس معاملہ میں آپ کا ہادی اور رہنما ہو۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو سنا اور آپ کو ایک رؤیا کے ذریعہ اپنے انتخاب سے اطلاع دی ؛ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ انہی ایام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خواب دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں اور آپ کے سامنے ایک سبز رنگ کا ریشمی رومال پیش کر کے عرض کیا کہ 'یہ آپ کی بیوی ہے دنیا اور آخرت میں۔آپ نے رومال لے کر دیکھا تو اس پر حضرت عائشہ بنت ابو بکر کی تصویر تھی۔اس کے کچھ عرصہ بعد خولہ بنت حکیم زوجہ عثمان بن مظعون آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے عرض کیا کہ 'یا رسول اللہ آپ شادی کیوں نہیں کر لیتے ؟ آپ نے فرمایا۔”رکس سے کروں؟“ اس نے عرض کیا کہ آپ چاہیں تو کنواری لڑکی بھی موجود ہے اور بیوہ عورت بھی۔آپ نے فرمایا۔کون خولہ نے عرض کیا۔کنواری تو آپ کے عزیز دوست ابو بکر صدیق کی لڑکی عائشہ ہے اور بیوہ سودہ بنت زمعہ ہے جو آپ کے خادم سکران بن عمر و مرحوم کی بیوہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اچھا تو پھر تم ان دونوں کے متعلق بات کرو ؛ چنانچہ خولہ نے پہلے حضرت ابو بکر اور اُن کی اہلیہ اُتم رومان سے ذکر کیا۔وہ پہلے بہت حیران ہوئے اور کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے : مثلاً دیکھو حالات حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب اور حضرت موسی“ اور حضرت داؤد اور حضرت سلیمان علیہم السلام : مثلاً دیکھو حالات حضرت کرشن اور رامچند رجی وغیرہ ۳ : بخاری واسد الغابه