سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 88 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 88

88 پھر اس کے ۳۵ سال بعد ۱۸۸۴ء میں آپ کی دوسری شادی دتی کے ایک سید خاندان میں ہوئی۔اور خدا تعالیٰ نے پہلی بیوی کو بھی اولاد سے نوازا ( اللہ تعالی اس نسل کو اپنے فضل و رحمت کے ہاتھ سے ممسوح فرمائے۔کیونکہ وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مبارک سایہ کے نیچے جمع ہو چکی ہے ) اور دوسری زوجہ نے یولدلہ کے وعدہ سے حصہ پایا۔مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص الخاص مصلحت کے ماتحت دوسری بیوی کے متعلق مخصوص برکت کا وعدہ فرمایا تھا۔اس لئے ۳۵ سال بعد میں آنے کے باوجود جہاں اس وقت پہلی بیوی کی نسل کی تعداد صرف ۱۹ نفوس پر مشتمل ہے۔وہاں دوسری بیوی کی نسل اس کی زندگی میں ہی ایک سو گیارہ نفوس کے حیرت انگیز عدد کو پہنچ گئی تھی۔وذالك فضل الله يوتيه من يشاء والله ذو الفضل العظيم یہ ہمارے آسمانی آقا کی رحمت و قدرت کا ایک بولتا ہوا نشان ہے۔جس سے کوئی اشد ترین دشمن بھی جس نے اپنی آنکھوں پر تعصب کی پٹی نہ باندھ رکھی ہوا نکار نہیں کرسکتا۔خوب غور کرو کہ ایک پودا ۱۸۵۰ ء میں نصب ہوتا ہے۔اور وہ مرتا نہیں۔بلکہ وہ بھی خدا کے فضل سے پھولتا اور پھلتا ہے۔اور پھر اس کے ۳۵ سال بعد ایک دوسرا پور ۱۸۸۴ء میں نصب کیا جاتا ہے۔اور اُس کے متعلق خدا تعالیٰ خاص برکت کا وعدہ فرماتا ہے۔اور آج ۱۹۵۲ء میں جبکہ پہلے پودے پر ایک سودوسال کا طویل زمانہ گزر چکا ہے۔اور دوسرے پودے پر صرف ۶۷ سال کا قلیل عرصہ گزر چکا ہے۔پہلے پودے نے صرف ۱۹ شاخیں پیدا کی ہیں۔اور دوسرا پودا ( ولا فخر ) ایک سو گیارہ شاخوں سے لدا پھر انظر آتا ہے ان دونوں زمانوں کو ایک پیمانہ پر لا کر دیکھنے سے یہ نسبت ۱۹ کے مقابل پر ۱۶۹ کی ملتی ہے۔اور اگر دونوں جانب کی مشتر کہ نسل کو نظر انداز کر کے دیکھا جائے۔تو پھر یہ نسبت اور بھی زیادہ ہو کر ۸ کے مقابل پر ۱۵۰ کی ہو جاتی ہے۔اور یہ ایک بہت بھاری بلکہ خارق عادت فرق ہے۔ہماری دلی تمنا اور دعا ہے۔کہ اللہ تعالیٰ مسیح پاک کی ہر روحانی اور جسمانی شاخ کو ترقی دے۔اور سرسبز رکھے۔لیکن خدا کے نشانوں کو چھپایا نہیں جاسکتا۔اور یقیناً دیکھنے والوں کے لئے اس میں ایک عظیم الشان نشان ہے۔اگر وہ سمجھیں۔فقط۔والسلام خاکسار مرزا بشیر احمد۔ربوہ ۱۹۵۲ء۔۵۔۷ ۵