سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 87 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 87

کر کے فرمایا تھا کہ: 87 اذكُرُ نِعْمَتِي رَائَيْتُ خَدِيجَتَى یعنی میرے اس انعام کو یا درکھ کہ تو نے میری خدیجہ کو پالیا۔اس وحی الہی میں حضرت اُم المومنین کی شادی کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی نعمت قرار دیا ہے۔جو ہمیشہ یادرکھنے کے قابل ہے۔اور آپ کا نام خدیجہ رکھ کر اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔کہ جس طرح رسول اللہ ﷺ کے خاندان کی بنیاد حضرت خدیجہ کے ذریعہ رکھی گئی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نسل بھی اس خدیجہ ثانی کے ذریعہ قائم ہوگی۔اس الہام کی تشریح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : چونکہ خدا تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ میری نسل میں سے ایک بڑی بنیاد حمائیت اسلام کی ڈالے گا۔۔۔۔اسی طرح میری بیوی جو آئندہ خاندان کی ماں ہوگی۔اس کا نام نصرت جہاں بیگم ہے۔یہ تفاؤل کے طور پر اس بات کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے تمام جہان کی نصرت کے لئے میرے خاندان کی بنیاد ڈالی ہے۔“ پھر حضرت اُم المومنین ادام اللہ فیوضھا کی شادی خانہ آبادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا اور کن زور دار الفاظ میں فرمایا کہ : أذكُرُ نِعْمَتِي الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكَ - غَرَسْتُ لَكَ بِيَدَيَّ رَحْمَتِي وَقُدْرَتِي - میری اس نعمت کو یاد رکھ جو میں نے تجھ پر کی ہے۔میں نے تیرے لئے خود اپنے ہاتھ سے اپنی رحمت اور قدرت کا یک شجرہ نصب کیا ہے۔اور چونکہ حضرت اُم المومنین حضرت مسیح موعود کے وجود کا حصہ تھیں۔اس لئے اس کے ساتھ ہی فرمایا۔تری نسلاً بعيداً۔یعنی تو ایک دور کی نسل کو دیکھے گا۔“ پس چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان مبارک پر حضرت اُم المومنین کی نسل کے متعلق عظیم الشان رحمت و قدرت کا وعدہ فرمایا گیا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کی نسل کو خاص برکت سے نوازا جن کا ایک ادنیٰ اور ظاہری پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اُم المومنین کی نسل کو تعداد کے لحاظ سے بھی غیر معمولی ترقی عطا فرمائی۔چنانچہ جیسا کہ بتایا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دوشادیاں فرمائیں۔پہلی شادی ۱۸۵۰ء کے قریب بڑی بیوی کے ساتھ ہوئی جو حضور کے اپنے خاندان میں سے تھیں۔