سیرت حضرت اماں جان — Page 89
89 عشق و وفا اور صبر ورضا حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے تحریر ہیں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوئی پر ایمان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں میری عمر تو بہت کم تھی اس لئے میں احباب کے سامنے مفصل حالات اس زمانہ کے بتلانے کے قابل نہیں۔ایک روایت جس کا میں عینی شاہد ہوں اور جو مجھے آج بھی اسی طرح یاد ہے جیسے کہ واقعہ ہوا تھا۔یہ ہے کہ ایک زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام گرمیوں کے موسم میں اپنے مکان کی اوپر والی منزل چھوڑ کر نچلے حصہ میں آجایا کرتے تھے اماں جان نے اس صحن کے نچلے حصہ میں ایک کمرہ بنوالیا تھا جس کا نام گلابی کمرہ رکھا گیا۔ایک دفعہ اماں جان نماز پڑھ رہی تھیں۔اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔میں ان کے قریب ہی تھا۔سلام پھیرنے کے بعد انہوں نے مجھے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے ابا دوسری شادی کر رہے ہیں۔ان کی مراد محمدی بیگم سے تھی۔غالباً میری عمر اس وقت پانچ یا چھ سال کی تھی۔یہ سُن کر میں روپڑا اماں جان نے مجھے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میں جو ہوں تم روتے کیوں ہو میں تمہارا اچھی طرح خیال رکھوں گی۔پھر باتوں باتوں میں یہ بھی بتایا کہ نماز میں یہ دعا مانگ رہی تھی کہ خدا کرے یہ شادی ہو جائے خواہ اس کی وجہ سے مجھے ذاتی طور پر کتنی ہی تکلیف اُٹھانی پڑے۔میرا خیال ہے کہ حضوراقدس بھی اس موقعہ پر وہاں آگئے تھے۔اس وقت کم عمری کی وجہ سے تو مجھے پورے حالات کا علم نہیں تھا۔مگر اس بات پر مجھے ضرور تعجب پیدا ہوا کہ اماں جان روروکر کیوں دعا مانگ رہی ہیں کہ یہ شادی ہو جائے۔اپنی عمر کے لحاظ سے اس بات کی سمجھ نہ آئی۔پھر بڑے ہو کر مجھے پتہ لگا کہ اماں جان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر کتنا ایمان تھا۔اور ایسے موقعہ پر جب کہ عورتیں دوسری شادی کے وقت گالی گلوچ تک پہنچ جاتی ہیں۔آپ نے اس امر کے لئے