سیرت حضرت اماں جان — Page 42
42 کرام مختلف علاقوں کے امراء - افسران صیغہ جات۔بیرونی مبلغین۔غیر ملکی طلباء اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کو اس حلقہ میں بلا کر شمولیت کا موقع دیا گیا۔پونے آٹھ بجے تابوت کو قبر میں اُتارا گیا۔اس وقت سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ اور تمام حاضر الوقت اصحاب نہایت رقت اور سوز وگزار کے ساتھ دعاؤں میں مصروف تھے۔رفت کا یہ سماں اپنے اندر ایک خاص روحانی کیفیت رکھتا تھا۔تابوت پر چھت ڈالنے کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۸ بجکر ۲۲ منٹ پر قبر پر اپنے دست مبارک سے مٹی ڈالی۔جس کی تمام احباب نے اتباع کی۔جب قبر تیار ہوگئی۔تو حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے پھر مسنون طریق پر مختصر دعا فرمائی۔اور اس طرح سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہاء کے جسد اطہر کو سپردخاک کر دیا گیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ تجهیز و تکفین کفن کیلئے ایک تھان حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا اپنے ہمراہ قادیان سے لائی ہوئی تھیں۔اور اکثر فرمایا کرتی تھیں۔کہ میں نے یہ اپنے کفن کے لئے رکھا ہوا ہے۔اس تھان کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک ململ کا مستعمل کر یہ بھی رکھا ہوا تھا۔کہ یہ کفن کے ساتھ ان کو پہنایا جائے۔چنانچہ نسل کے بعد پہلے کرتہ پہنایا گیا اور اس پر کفن پہنایا گیا۔جنازہ میں شرکت کرنے والے احباب کا اندازہ چھ اور سات ہزار کا ہے۔جو پاکستان کے ہر علاقہ اور ہر گوشہ سے آئے ہوئے تھے۔حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی وفات کے معابعد بذریعہ ایکسپریس تار خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کو اور جملہ جماعت ہائے احمدیہ کے امراء کو اس سانحہ کی اطلاع بھجوا دی گئی تھی۔اور جماعت کے اخلاص کے پیش نظر حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا۔کہ جنازہ ۲۲ اپریل ۱۹۵۲ء کو صبح ہو۔تا کہ دوست زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوسکیں۔چنانچہ ۲ اپریل کی صبح تک ہر علاقہ سے ہزاروں کی تعداد میں احمدی مردوزن ربوہ پہنچ چکے تھے۔پشاور سے لے کر کراچی تک کی جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔۲۱ اپریل کی شام کو جب حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی زیارت کا موقع مستورات کو دیا گیا۔تو قریباً ڈیڑھ ہزار مستورات نے زیارت کا شرف حاصل کیا۔اور ابھی ایک