سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 41 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 41

41 تھے۔اور ساتھ ساتھ قرآن مجید اور احادیث نبویہ کی دعائیں بعض اوقات خاموشی کے ساتھ اور بعض اوقات کسی قدر بلند آواز سے دہرا رہے تھے۔باری باری کندھا دینے کا انتظام چونکہ احباب بہت بڑی تعداد میں آچکے تھے اور ہر دوست کندھا دینے کی سعادت حاصل کرنے کا متمنی تھا۔اس لئے رستے میں یہ انتظام کیا گیا۔کہ اعلان کر کے باری باری مختلف دوستوں کو کندھا دینے کا موقع دیا جائے۔چنانچہ صحابہ کرام۔امرائے صوبہ جات اضلاع یا ان کے نمائندگان۔بیرونی ممالک کے مبلغین۔غیر ملکی طلباء کارکنان صدر انجمن احمدیہ و تحریک جدید انجمن احمدیہ، مجالس خدام الاحمدیہ انصار اللہ کے نمائندگان اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد کے علاوہ مختلف مقامات کی جماعتوں نے بھی وقفے وقفے سے جنازہ کو کندھا دینے کی سعادت حاصل کی۔سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض افراد نے شروع سے آخر تک کندھا دیئے رکھا۔نماز جنازہ۔رقت کا ایک خاص عالم چھ بج کر چھپن منٹ پر تابوت جنازہ گاہ میں پہنچ گیا جوموصیوں کے قبرستان کے ایک حصہ میں مکرم مولوی جلال الدین صاحب شمس اور مکرم میاں غلام محمد صاحب اختر کی مساعی سے قبلہ رخ خطوط لگا کر تیار کی گئی تھی۔صفوں کی درستی اور گنتی کے بعد سات بج کر پانچ منٹ پر سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نماز جنازہ شروع فرمائی۔جو سات بج کر سترہ منٹ تک جاری رہی۔نماز میں رقت کا ایک ایسا عالم طاری تھا۔جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔نماز جنازہ کے بعد تابوت مجوزہ قبر تک لے جایا گیا جہاں حضرت اماں جان کو امانتاً دفن کرنا تھا۔قبر کے لئے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت قبرستان موصیان ربوہ کا ایک قطعہ مخصوص کر دیا گیا تھا۔ہجوم بہت زیادہ تھا۔اس لئے نظم و ضبط کی خاطر مجوزہ قبر کے اردگرد ایک بڑا حلقہ قائم کر دیا گیا۔جس میں جماعت کے مختلف طبقوں کے نمائندگان کو بلا لیا گیا۔چنانچہ صحابہ