سیرت حضرت اماں جان — Page 43
بڑی تعداد باقی رہتی تھی۔43 نماز جنازہ کے وقت احباب کی ۲۵ لائینیں تھیں۔اور ہر لائن میں کم و بیش اڑھائی صد بلکہ اس سے بھی زیادہ آدمی کھڑے تھے۔بعض مستورات بھی اپنے شوق سے اور اخلاص میں جنازہ گاہ تک پہنچ کر شریک نماز ہوئیں۔تجہیز وتکفین اور نماز جنازہ میں شامل ہونے والوں میں پندرہ سولہ وہ غیر ملکی طلباء بھی تھے۔جو دنیا کے مختلف حصوں سے دین سیکھنے اور خدمت دین میں اپنی زندگی کو بسر کرنے کے لئے ربوہ آئے ہوئے ہیں ان غیر ملکی طلبہ میں چین، جاوا، سماٹرا، ملایا، برما،شام،مصر، سوڈان، حبشہ ، مغربی افریقہ، جرمنی ، انگلستان اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے طلباء شامل ہیں۔علالت کے آخری ایام نقص : حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی کے ذریعہ جن حالات کا علم ہوا ہے۔ان سے معلوم ہوتا ہے۔کہ حضرت ام المومنین قریب دوماہ سے بیمار تھیں ڈاکٹری تشخیص کے مطابق گردوں کے فعل میں پیدا ہوجانے سے بیماری کا آغاز ہوا۔اور پھر اس کا اثر دل پر اور تنفس پر پڑنا شروع ہوا۔بیماری کے حملے وقتا فوقتا بڑی شدت اختیار کرتے رہے لیکن آپ نے ان تمام شدید حملوں میں نہ صرف کامل صبر و شکر کا نمونہ دکھایا۔بلکہ بیماری کا بھی نہایت ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا۔اس عرصہ میں لاہور سے علی الترتیب ڈاکٹر کرنل ضیاء اللہ صاحب۔ڈاکٹر غلام محمد صاحب بلوچ اور ڈاکٹر محمد یوسف صاحب علاج کیلئے بلائے جاتے رہے۔انکے ساتھ مکرم ڈاکٹر محمد یعقوب خان صاحب بھی ہوتے تھے۔لیکن وقتی افاقے کے سوا بیماری میں کوئی تخفیف کی صورت پیدا نہ ہوئی اس کے بعد حکیم محمد حسن صاحب قرشی کو بھی بلا کر دکھایا گیا۔جن کے ساتھ حکیم محمد حسین صاحب مرہم عیسی بھی تھے۔لیکن ان کے علاج سے بھی تخفیف کی صورت پیدا نہ ہوئی۔مقامی طور پر صاحبزادہ ڈاکٹر منور احمد صاحب بھی حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کے معالج تھے۔جن کے ساتھ بعد میں مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب بھی شامل ہو گئے۔اور چند دن کے لئے درمیان میں ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب نے بھی علاج میں حصہ لیا۔انتظامی سہولت اور نگرانی کے لئے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مستورات اور بچوں کا انتظام