سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 40 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 40

40 40 حضرت سیدہ اماں جان رضی اللہ عنہا کی تدفین حضرت سیدہ اماں جان رضی اللہ عنہا کی تدفین کے بارہ میں نامہ نگار روز نامہ الفضل لاہور کی رپورٹ ذیل میں دی جا رہی ہے۔( نامہ نگار خصوصی کے قلم سے) ربوہ ۲۲ اپریل ۱۹۵۲۔آج صبح آٹھ بج کر ۲ منٹ پر کم و بیش چھ سات ہزار مومنین نے اشکبار آنکھوں محزون قلوب اور اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی رقت اور سوز و گداز سے اور دعاؤں کے ساتھ سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین نصرت جہاں بیگم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے جسد اطہر کو سپردخاک کر دیا۔اور اس طرح اس مقدس وجود کا اس دنیائے فانی سے آخری تعلق بھی منقطع ہو گیا۔جس کی خود اللہ تعالیٰ نے عرش پر تعریف فرمائی۔اور جو اس زمانہ کے عظیم الشان مامور سید نا حضرت مسیح موعود و مہدی مسعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زوجیت میں داخل ہو کر حضور ہی کی ذات بابرکات کا ایک حصہ بن چکا تھا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - جنازہ اٹھانے کا منظر حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا جنازہ اندرون خانہ سے اٹھا کر چھ بج کر ایک منٹ پر تابوت میں باہر لایا گیا۔اس وقت خاندان سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نو نہال اسے تھامے ہوئے تھے۔تابوت کو ایک چارپائی پر رکھ دیا گیا جس کے دونوں طرف لمبے بانس اس غرض سے بندھے ہوئے تھے۔تا کہ ایک وقت میں زیادہ دوست کندھا دینے کی سعادت حاصل کرسکیں۔اس وقت ملک کے کونے کونے سے ہزاروں احمدی مردوزن پہنچ چکے تھے۔جو اپنی ما در مشفق کیلئے سوز گداز دعائیں کرنے میں مصروف تھے چھ بج کر پانچ منٹ پر جنازہ اٹھایا گیا۔جبکہ سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعدد دیگر افراد جنازے کو کندھا دے رہے