سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 274 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 274

274 کہ اپنے مکان کے بابرکت کمرے بھی مہمانوں کے لئے خالی کروا دیتیں۔اور اگر مجھے برتنوں کی ضرورت ہوتی تو الماری کھول کر فرماتیں لولے لو جتنے لینے ہیں۔الغرض پیاری اماں جان کے لطف و کرم اس ناچیز پر بارش کی طرح ہیں جن کو شمار نہیں کر سکتی اور نہ ہی قلم میں طاقت ہے کہ لکھ سکوں۔مجھے کسی طرح بھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ اماں جان بھی ہم سے اس طرح جدا ہو جائیں گی۔یہی خیال ہوتا تھا کہ اماں جان کا مبارک سایہ ہم پر ہمیشہ اسی طرح رہے گا۔اے اللہ تیری ہزاروں ہزار رحمتیں اور برکتیں اماں جان پر نازل ہوں۔آمین ۱۶۳ مکرم محمد حسین خان صاحب آف جڑانوالہ ہمارے گاؤں موضع ماڑی بچیاں تحصیل بٹالہ میں ایک احمدی دوست میاں اللہ رکھا صاحب دوکاندار تھے۔وہ دیہات سے غلہ خرید کر آس پاس کی منڈیوں میں فروخت کرنے کا کام کرتے تھے۔ایک دفعہ وہ قادیان گئے ان کا گھوڑا خود بخو دکھل گیا۔یا کوئی شخص بد نیتی سے کھول کر لے گیا۔میاں اللہ رکھا نے اردگرد کے دیہات میں تلاش کی۔مگر نا کام واپس آئے۔حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کیلئے درخواست کی۔میاں اللہ رکھا بہت پریشان تھے۔حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک دعا کاغذ پر لکھ دی۔اور فرمایا میں بھی دعا کروں گی۔آپ یہ دعا پڑھتے جائیں۔اور گھوڑے کو تلاش کریں۔انشاء اللہ مل جائے گا۔میاں اللہ رکھا صاحب بیان کرتے تھے۔کہ دعا کے الفاظ پڑھتے ہوئے اور سیاہی خشک کرنے کیلئے کاغذ پر پھونکیں مارتا ہوا میں لنگر خانہ سے تھوڑی دور ہی آگے بڑھا تھا۔کہ میرا گھوڑا دوڑتا ہوا سامنے آرہا تھا۔جسے میں نے پکڑ لیا۔وہ دعا میاں اللہ رکھانے مجھے بتلائی تھی۔عربی زبان میں تھی۔مجھے اب وہ یاد نہیں رہی۔ایک غریب دیہاتی کی عرض پر اس قدر توجہ کہ علاوہ خود دعا کرنے کے کاغذ پر ایک دعا لکھ دی تا کہ وہ خود بھی دعا کر سکے۔کسی قدر بلند اخلاقی کی دلیل نیز حضرت اُم المومنین کا اپنے خدا کے مجیب الدعوات ہونے پر کس قدر پختہ ایمان تھا۔کہ قبل از وقت فرمایا۔انشاء اللہ گھوڑ امل جائے گا۔۱۶۴ مکرم عبدالسمیع نون صاحب ایڈوکیٹ حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے صاحبزادے چودھری عبد اللطیف