سیرت حضرت اماں جان — Page 273
273 میں حاضر ہو کر دعا کے لئے عرض کرتی اور وہ مشکل حل ہو جاتی تھی۔جب میرے لڑکے محمد احمد نے ۱۹۳۵ء میں ڈاکٹری کا امتحان پاس کیا تو اس کے بعد دواڑھائی سال گزر گئے نہ تو کہیں ملازمت کا انتظام ہوانہ اور کسی طرح کی صورت روزگار پیدا ہوئی۔ایک دن میں رات کے وقت بہت پریشانی کی حالت میں اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوئی تو مجھے دیکھ کر فرمانے لگیں۔آؤ بیٹی کہاں جارہی ہو۔میری چارپائی میں پائینتی ڈال دوگی۔میں نے عرض کیا جی اماں جان بڑی خوشی سے۔میں رسی لے کر کھڑی ہوئی اور آپ اس وقت فرمانے لگیں۔تمہارے محمد احمد کا کیا حال ہے۔میں نے عرض کیا اماں جان میں محمد احمد کے لئے پریشان ہو کر آپ کے پاس آئی تھی۔دوسال ہو گئے وہ تو بالکل بے کار ہے اور بے روز گار ہے۔آپ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے روز گار کی کوئی صورت پیدا کر دے اور باعزت رزق عطا فرمائے۔آپ نے فرمایا بے کار تو نہیں ہے خاندان کی خدمت کرتا ہے یہ بھی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو موقع عطا فرمایا ہے۔ہاں بے روز گار ضرور ہے روزگار بھی اللہ تعالیٰ اسے ضرور دے گا۔صبح مبارکہ بیگم (یعنی حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ ) شملہ جارہی ہیں ان کے ساتھ امتہ المجید بھی جارہی ہے۔کیونکہ اس کے ہاتھوں پر ایگزیما ہے اور اس کو بہت تکلیف ہے۔ان کو ڈاکٹر کی ضرورت ہے ان کے ساتھ اپنے محمد احمد کو ضرور بھیج دو۔میں نے عرض کیا میں ضرور بھیج دوں گی۔اور گھر میں آکر فوراً ہی محمد احمد کو تیار کر دیا اورمحمد احمد صبح کو بیگم صاحبہ کے ساتھ شملہ چلا گیا۔اور میں دوسرے روز زینے سے اتر کر اماں جان کے پاس گئی۔مجھے دیکھتے ہی فرمانے لگیں۔کیا تمہارا محمد احمد شملہ چلا گیا ؟ میں نے کہا جی ہاں چلا گیا۔تو خوش ہو کر فرمانے لگیں جزاک اللہ۔ابھی محمد احمد کو شملہ گئے پندرہ یا بیس روز ہی ہوئے تھے کہ سندھ سے ایک ملازمت کی اطلاع آگئی۔اور اس کو شملہ سے ڈیوٹی پر حاضر ہونے کے لئے واپس آنا پڑا۔اسی طرح ایک روز محمد احمد کی شادی کے لئے دریافت فرمایا۔” تم اپنے بیٹے کی شادی کیوں نہیں کرتیں“۔میں نے عرض کیا اماں جان مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ خدا جانے کیسی بہو آئے آپ دعا کریں کہ نیک بخت محبت کے ساتھ گزارہ کرنے والی بہو ملے۔آپ نے فرمایا۔ایسی ہی ملے گی۔کچھ دنوں کے بعد محمد احمد کا نکاح ایسی جگہ ہو گیا کہ جس کا ہمیں وہم و گمان بھی نہیں تھا۔اور مجھے نیک بخت فرمانبردار۔محبت کے ساتھ گزارہ کرنے والی بہو اللہ تعالیٰ نے اماں جان کی دعاؤں کی بدولت عطا فرمائی۔میرے ہر ایک بچے کی شادی پر حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا محبت کے ساتھ تحفہ دیتیں حتی