سیرت حضرت اماں جان — Page 275
275 صاحب سے ملاقات ہوئی۔دوران ملاقات میں حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر خیر بھی آیا۔چودھری صاحب نے سنایا۔کہ وہ آج سے تین برس قبل بعارضہ ٹی۔بی سخت بیمار پڑ گئے۔اور نوبت یہاں تک پہنچی۔کہ آپ کروٹ تک بھی نہیں بدل سکتے تھے۔نہ کوئی دوائی وغیرہ کھانے کے لئے منہ تک کھول سکتے تھے۔نہ صرف اقارب بلکہ معالج ڈاکٹر تک نے مایوسی کا اظہار کر دیا تھا۔اس وقت انہوں نے حضرت اُم المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کی خدمت میں دعا کیلئے ایک عریضہ لکھا۔حضور ان دنوں رتن باغ میں قیام فرما تھے۔جب حضور کو یہ خط ملا۔تو آپ نے اس کا ذکر حضرت اماں جان سے کیا۔دوسرے روز جب چودھری صاحب کی ہمشیرہ رتن باغ گئی۔تو حضرت اماں جان ان کے آنے کی خبر پا کر خود دوسری منزل سے نیچے تشریف لا ئیں۔اور کمال مادرانہ شفقت سے یوں گویا ہوئیں کہ شیر علی کے بیٹے کا کیا حال ہے۔ان کے بیٹوں میں سے عبدالرحیم کمزور تھا۔عبدالرحمن اور عبداللطیف تو اچھے صحت مند جوان تھے۔لیکن رات مجھے محمود احمد ( یعنی حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ) نے بتایا۔کہ اسے ٹی۔بی ہوگئی ہے۔آپ کی ہمشیرہ نے کہا۔ہاں اماں جان وہ سخت بیمار ہیں۔دعا کریں۔آپ نے فرمایا۔میں نے دعا اسی وقت کر دی تھی۔اللہ تعالیٰ اسے شفادے گا۔پھر فرمایا میں حیران ہوں۔اسے یہ مرض ہو کیسے گیا۔وہ تو اتنا طاقت ور اور ہمت والا نو جوان تھا۔کہ محمود احمد کی موٹر کے ساتھ دو دو تین تین میل تک دوڑتا جاتا تھا۔آپ نے کچھ ایسی شفقت اور طمانیت سے ان خیالات کا اظہار فرمایا۔کہ جب عبد اللطیف صاحب کو اس کی اطلاع ملی۔کہ حضرت اماں جان نور اللہ مرقدہانے ان کیلئے دعا فرمائی ہے۔تو وہ نوجوان جس نے حضرت محمود ایدہ اللہ الودود کے زیر سایہ تربیت پائی تھی۔اور جس نے تو کل اپنے فرشتہ سیرت باپ سے ورثہ میں پایا تھا۔فرط انبساط سے سنبھل کر چار پائی پر تکیہ لگا کر بیٹھ گیا۔اور لواحقین کو جواب مایوسی کے عالم میں کھوئے ہوئے تھے۔بلا کر پر نم آنکھوں سے کہا۔کہ تم اس پاس اور نامیدی کو الوداع کہو۔اور اپنی اشکبار آنکھوں کو خشک کر لو۔کہ میں شفا پا گیا ہوں۔اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں۔کہ میں اس مرض سے نہیں مروں گا۔بھلا میری پیاری اماں جان ہاں وہ اماں جان جن کے سر پر سورج (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) اور جن کی گود