سیرت حضرت اماں جان — Page 270
270 قبولیت دعا مکرمہ صالحہ مریم بنت حضرت حاجی عبدالکریم صاحب کراچی میری والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں۔کہ قریباً بیس برس ہوئے ہیں میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ قادیان دارالامان گئی۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے مکان پر ہم سب مقیم رہے۔وضع حمل کا وقت قریب تھا۔میں بیمار ہونے کی وجہ سے سخت کمزور تھی۔اور ان ایام میں اکثر عورتیں زچگی میں فوت ہو رہی تھیں۔یوں معلوم ہوتا تھا۔کہ وبا کی صورت ہوگئی ہے۔میں دعا کا خط لے کر حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوئی۔آپ نے نہایت شفقت سے فرمایا کہ میں انشاء اللہ دعا کروں گی۔مجھے تسلی ہوئی۔اس کے بعد میں چلنے سے معذور ہوگئی تو حضرت ماں جان تقریباً ہر روز اپنی خادمہ میری خبر لینے کے لئے بھیجا کرتی تھیں۔جب ولادت کا وقت قریب ہوا تو حضرت اماں جان نے اپنا کرتہ مبارک اپنی خادمہ کے ہاتھ مجھے بھیجا کہ اس کو پہن لو۔چنانچہ میں نے وہ کرتہ پہن لیا۔مجھے خدا تعالیٰ نے صحت و عافیت کے ساتھ لڑکی عطا فرمائی۔کراچی واپس آنا تھا۔کیونکہ حاجی صاحب کی رخصت ختم ہونے کو تھی۔اس لئے حضرت اماں جان نے مجھے پیغام بھیجا کہ بچی کو دکھا کر جانا۔میں نے ان کے ارشاد کے ماتحت ان کی خدمت میں حاضر ہوئی۔آپ نے بچی دیکھ کر خوشی کا اظہار فرمایا اور دعا دی۔اس واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔کہ حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا اپنی غریب احمدی مستورات پر کس حد تک شفقت فرمایا کرتیں تھیں۔۱۵۸ حاجی محمد فاضل صاحب تحریر کرتے ہیں: میری اہلیہ بیان کرتی ہیں۔ایک دفعہ حضرت اماں جان فیروز پور تشریف لے گئیں۔میرے ساتھ حضور کی خاص محبت تھی کیونکہ میں شہر کی لجنہ کی صدر تھی۔مجھے حضرت اماں جان نے مرزا ناصر علی صاحب کی کوٹھی پر بلایا۔میں اپنے لڑ کے محمد اعظم کو بھی ساتھ لے کر گئی جو اُس وقت تقریباً سات سال کا تھا اور محمد اعظم کا اتبا آگرے گیا ہوا تھا جب کوٹھی پر میں حضور کو ملی اور