سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 271 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 271

271 کچھ دیر وہاں بیٹھی رہی ، اس وقت محمداعظم کو بخار ہو گیا۔میں حیران تھی کہ بخار کی حالت میں بچہ نہ چلنے کے قابل ہے اور نہ مجھ سے اُٹھایا جا سکتا ہے میں کیا کروں۔اس وقت حضرت اماں جان نے فرمایا کہ زینب مت گھبراؤ میں دعا کرتی ہوں اور اس کو پانی گرم کر کے پلاؤ۔حضور نے دعا فرمائی اور دو تین دفعہ اس کو پانی گرم کر کے پلایا تو بخار محمد اعظم کا بالکل اتر گیا اور وہ میرے ساتھ چل کر پیدل گھر آگیا۔یہ حضرت اماں جان کا معجزہ ہے۔۱۵۹ ایک دفعہ پھر میں شہر فیروز پور سے قادیان دارالامان آئی۔تو ان دنوں قاضی محمد عبد اللہ صاحب جو میرے خالہ زاد بھائی لگتے ہیں۔ان کی دعوت ولیمہ تھی۔اور اس دعوت ولیمہ پر خاندان حضرت مسیح موعود کی مستورات کے ساتھ اس عاجزہ کی بھی دعوت تھی۔جس میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔اُس دعوت ولیمہ میں اس عاجزہ نے حضرت اماں جان کے ساتھ بیٹھ کر دعوت کھائی۔اس دعوت ولیمہ کھانے کے وقت دعوت کھا چکنے کے بعد حضرت اماں جان نے فرمایا۔کہ آؤ دعا کریں۔کہ اللہ تعالیٰ اب قاضی محمد عبد اللہ صاحب کو جلدی اولا د دیوے۔تو پھر یہاں ہی بیٹھ کر دعوت کھائیں۔پھر کچھ عرصے کے بعد اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا۔کہ میرے بھائی قاضی محمد عبد اللہ صاحب کے ہاں اُن کی پہلی بیوی سے ہی لڑکی (امتہ الوہاب ) پیدا ہوئی۔جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک زندہ ہے۔اللہ تعالٰی اس کو دین اور دنیا میں کامیاب فرمادے۔آمین۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان کی قاضی محمد عبد اللہ صاحب کی شادی کی ولیمہ کھانے والی دعا منظور فرمائی۔اور یہ لڑکی امتہ الوہاب میرے بھائی قاضی محمد عبد اللہ کی حضرت اماں جان کی دعا کا معجزہ ہے۔۱۶۰ از مکرمه سلطانه عزیز صاحبه میری آپا کی نند حمودہ کے سسرال و شوہر غیر احمدی تھے اور حد سے زیادہ اسے تکالیف پہنچانے لگے۔وہ ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر ربوہ آئی اور حضرت اماں جان کی خدمت میں دعا کی درخواست کر کے رونے لگی اور اپنی تکالیف کا سب ماجرا بیان کیا۔اس پر حضرت اماں جان نے فرمایا۔کیا تیرے ماں باپ اندھے تھے اور تو بھی اندھی تھی جو ان میں رشتہ کیا گیا اور تو نے اس وقت کیوں نہ انکار کر دیا۔اس پر محمودہ نے عرض کیا کہ میں اس وقت نابالغ تھی۔اس پر حضرت اماں جان نے کہا پھر تو روتی کیوں ہے۔جاؤ اور اب بھی کوشش کرو۔اللہ تعالیٰ تمہیں ان ظالموں کے پنجہ سے نجات