سیرت حضرت اماں جان — Page 226
226 ہم اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں احمدی ہو چکے تھے۔مگر حضور کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ آپ کا وہیں رہنا زیادہ مفید ہے۔باوجود شدید خواہش کے ہجرت کر کے قادیان میں آباد نہ ہو سکے بلکہ حضور علیہ السلام کے وصال کے چند سال بعد غالبا ۱۹۱۱ء میں حضرت خلیفتہ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اجازت سے مستقل طور پر قادیان میں آباد ہو گئے۔او پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس خاندان کے زیرِ احسانات عمریں وہیں گزار ہیں۔گاؤں چھوڑ کر نئے ماحول اور اجنبی مقام عزیز واقارب کی جدائی مستقبل کے بارے میں پریشانی۔سابقہ جائدادوں کا فکر ان سب وجوہات کے سبب میں روتی رہتی۔کسی نے حضرت اماں جان کو اطلاع کر دی۔آپ ایک دن صبح ہی تشریف لے آئیں۔فرمایا لڑکی مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم اداس ہو اور ہر وقت روتی رہتی ہو۔تم صبح ہی کھانا وغیرہ پکا کر میرے گھر آجایا کرو اور شام کو آکر پھر کھانا پکانا“ کر لیا کرو۔سارا دن وہیں رہا کرو بس اسی دن سے میں نے یہ دستور بنا لیا۔میرے خاوند خدمات سلسلہ میں سالہا سال تک باہر رہے اور میں چھوٹے بچوں کو ساتھ لے کر سارا دن حضرت اماں جان کے ہاں گزارتی۔اور خدا کا فضل ہے کہ میرے بچے حضرت مسیح پاک کے گھرانوں میں کھیل کود کر بڑے ہوئے۔دوسرے ہی دن جب میں حضرت اماں جان کے ہاں گئی تو فرمایا تمہیں کوئی تکلیف یا ضرورت ہو مجھ سے کہہ دیا کرو۔۸۲ علاج و معالجہ امۃ الرشید شوکت صاحبه ایک دفعہ گورداسپور میں ہمارے گھر تشریف لائیں۔میرا چھوٹا بھائی بعارضہ پیچیش تقریبا ایک ماہ سے بیمار تھا۔کسی دوائی سے آرام نہیں آتا تھا۔حضرت اماں جان ہمارے گھر آئیں۔بچہ کو کمزور اور بیمار دیکھ کر ہمدردی کا اظہار کیا اور خونی پیچش کی نہایت سادہ دوائی بھی بتائی کہ لسوڑی کی ہری ہری کونپلوں کو مٹی کے برتن میں بھگو کر چھان کر اس میں چینی ملا کر بچہ کو دو انشاء اللہ آرام آجائے گا۔میری والدہ بیان کرتی ہیں کہ دو تین دن یہی دوائی دینے سے بچہ کو خدا کے فضل سے آرام آگیا۔میری شادی کے موقع پر دوبارہ ہمارے گھر تشریف لائیں۔۸۳