سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 225 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 225

225 حقیقت یہ ہے کہ شفقت اور مہربانی کی جو مثالیں آپ نے قائم کی ہیں وہ مثالیں سوائے امہات المومنین کے دنیا کے اور کسی فرد میں بھی پائی نہیں جاتیں۔۷۹ مکرمه عزیزه بخت صاحبہ اہلیہ حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب بیان کرتی ہیں: ایک دفعہ میں مولوی صاحب کے ساتھ قادیان آئی۔حضرت اماں جان نے مجھے اپنے مکان میں ٹھہرایا۔مولوی صاحب مہمان خانہ میں ٹھہر گئے۔حضرت اماں جان روزانہ اپنے ساتھ کھانا کھلاتیں اور نماز بھی اکٹھی پڑھتیں بہت دفعہ عشاء کی نماز کے بعد میرے کمرے میں تشریف لا کر دیر تک باتیں کرتی رہتیں اور کبھی لطیفے اور سبق آموز کہانیاں سناتی رہتیں۔ایک دن کشمیر سے ایک بڑا ٹو کر اسیبوں کا آپ کے پاس آیا۔آپ نواب صاحب کی کوٹھی میں تشریف لے گئیں۔واپسی پر مجھے بلا کر چھ سیب دیئے اور فرمایا کہ تین تمہارے لئے ہیں اور تین مولوی صاحب کے لئے۔۸۰ سلیقہ شعاری والدہ مکرم جمال الدین صاحب قادیانی ابن چوہدری بدرالدین صاحب مرحوم چنیوٹ بیان کرتی ہیں: آپ کے گھر میں ہر چیز قرینے کے ساتھ موزوں جگہوں پر بھی ہوئی نظر آتی اور صفائی کا اہتمام خاص طور پر ہوتا گھر اور لباس وغیرہ میں صفائی کا آپ کا اہتمام سب کے لئے ایک عجیب نمونہ ثابت ہوا۔چنانچہ میں نے تقلید میں آپ کی خوشنودی حاصل کر لی۔ایک دفعہ مجھ سے نہایت محبت سے فرمایا۔لڑ کی تمہارا گھر ہی اس حلقہ میں بہت صاف ستھرا ہوتا ہے۔اسی لئے میں تمہارے گھر روزانہ آجاتی ہوں“۔فجر کی نماز کے بعد آپ اکثر بہشتی مقبرہ جاتے ہوئے یا واپسی پر میرے ہاں تشریف لے آتیں اور میرا گھر برکتوں، رحمتوں اور مسرتوں سے بھر جاتا۔کھانا پکانے تقسیم کرنے اور کھلانے کا طریق آپ کا بہترین تھا۔اور میں یہ کہوں گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹوں پوتوں اور لڑکیوں کے گھروں میں جو سلیقہ اور قرینہ ہے۔یہ محض حضرت اماں جان کے وجود کی برکت سے ہے۔اگر کبھی کھانا تھوڑا پکتا۔اور مہمان زیادہ آجاتے تو ایسے طور سے تقسیم فرماتیں کہ کھانا کفایت کر جاتا۔مجھے یاد نہیں کہ کبھی مہمانوں کو کوئی کوفت ہوئی ہو۔A1