سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 227 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 227

227 آپ کی ذات مجموعه خلائق تھی مکرم شیخ محمد احمد پانی پتی صاحب آپ کی ذات مجموعہء خلائق تھی۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا زندہ ثبوت تھیں۔حضور علیہ السلام جماعت سے جن بہترین اخلاق کی تو قعات رکھتے تھے۔وہ سب حضرت اماں جان میں موجود تھے۔سخاوت غرباء پروری عبادت دیانت۔پاکبازی صبر اخلاص۔دین کے لئے بڑی سے بڑی قربانی کرنی۔مہمان نوازی۔اولاد کی عمدہ تربیت غرض یہ کہ کوئی صفت اور کوئی اخلاق ایسا نہ تھا۔جو آپ میں بدرجہ اتم نہ پایا جاتا ہو۔بطور نمونہ چند مثالیں درج ذیل ہیں۔عورت کو سوت سے جو نفرت ہوتی ہے وہ ایک طبعی امر ہے۔اس کے دل میں سوت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی اور وہ اس کے لئے کسی قسم کی ہمدردی نہیں چاہتی۔لیکن حضرت ام المومنین کی یہ حالت نہ تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اپنی پہلی بیوی سے عملی رنگ میں علیحد گی تھی۔جب حضور نے حضرت اُم المومنین سے شادی کی تو آپ نے ان کو کہلا کر بھیجا کہ اب اگر میں دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھوں گا تو میں گنہگار ہوں گا۔اس لئے اب دوباتیں ہیں یا تو تم مجھ سے طلاق لے لو یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو میں تم کو خرچ دوں گا۔تو انہوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں طلاق کیا لوں گی مجھے خرچ ملتار ہے میں اپنے حقوق چھوڑتی ہوں۔۱۴ حضرت ام المومنین جانتی تھیں کہ وہ سوت ہیں۔لیکن آپ ان سے اکثر ملا کرتی تھیں۔اور بسا اوقات ان کی امداد بھی فرمایا کرتی تھیں۔چنانچہ آپ خود ہی اپنی بیان کردہ روایت میں فرماتی ہیں: ایک دفعہ مرزا سلطان احمد صاحب کی والدہ بیمار ہوئیں۔تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی میں ان کو دیکھنے کے لئے گئی۔واپس آکر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ بھیجے کی ماں بیمار ہے اور یہ یہ تکلیف ہے۔آپ خاموش رہے۔میں نے دوسری دفعہ کہا تو