سیرت حضرت اماں جان — Page 203
203 ایک دوسری خادمہ مسمات سردار نے حضرت اماں جان کی اس بیت الدعا کو تالا لگانے والی خادمہ سے کہا۔کہ بیت الدعا کا تالا مت لگاؤ۔کیونکہ حضرت اماں جان اس بہن زینب بی بی کو بیت الدعا میں نفل پڑھنے اور دعائیں مانگنے کی اجازت دے گئے ہیں۔جو صبح سے بیت الدعا کے باہر اسی غرض کے لئے بیٹھی ہوئی ہے اس لئے اس تالا لگانے والی خادمہ نے بیت الدعا کو تالا لگانا چھوڑ دیا۔اور مجھ کو کہا کہ آپ پھر بیت الدعا میں نفل پڑھنے اور دعائیں کرنے کے لئے چلی جائیں۔اس کے اس طرح بلانے پر میں بیت الدعا کے اندر جب داخل ہونے لگی اور جو نہی بیت الدعا کے باہر والی سیڑھی پر اپنا قدم رکھا کہ میں بیت الدعا میں داخل ہو جاؤں اُس وقت مجھے سخت رقت طاری ہو گئی۔یہ حضرت مسیح موعود کا خاص معجزہ ہے اور حضرت اماں جان پر عاجزہ کی غریب پروری اور شفقت خاص کا نتیجہ ہے۔پھر اس عاجزہ نے بیت الدعا کے اندر داخل ہو کر نفل پڑھے اور خوب دل کھول کر دعائیں کیں سلسلہ کی کامیابی کے لئے اپنے لئے اپنے میاں اور بال بچوں کے لئے رشتہ داروں کے لئے اور پھر میاں ناصر احمد کی ولایت سے کامیاب ہو کر آنے کے لئے اور دوسرے بہن بھائیوں سب کے لئے دعائیں کرتی رہی۔اور عجیب بات بیت الدعا میں اس عاجزہ نے یہ دیکھی۔کہ جتنا عرصہ میں بیت الدعا میں نفل پڑھتی رہی اور دعائیں کرتی رہی۔تمام کا تمام عرصہ میری آنکھوں سے برابر آنسو جاری رہے۔سبحان اللہ احمد للہ پر اللہ تعالی کا شکر کرتے ہوئے اپنے مکان فضل منزل پر واپس چلی گئی۔۴۸ محبت اور عجز وانکسار مکرم ایم اسلم قریشی صاحب کراچی جماعت احمدیہ میں حضرت اماں جان کی جو پوزیشن تھی۔وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حرم محترم تو تھیں ہی۔لیکن اس کے علاوہ آپ کی وہ شان تھی۔کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خدیجہ کہہ کر پکارا۔اور اس طرح جماعت کے علاوہ دنیا کو بھی یہ بتایا گیا۔کہ اس مقدس عورت کا رتبہ بہت بلند ہے۔مگر اس قدر اونچا مقام رکھنے کے باوجود آپ کا سلوک جماعت کے غریب طبقے کے ساتھ ایسا مشفقانہ تھا۔کہ آج آپ کی جدائی کو بچہ بچہ محسوس کر رہا ہے۔غریب اور امیر کے ساتھ یکساں کرم فرمائی کے ساتھ پیش آنے والا وجود