سیرت حضرت اماں جان — Page 202
202 لگایا اور خوب پیار کر کے اپنے پاس بٹھا لیا۔دعوتِ ولیمہ کے لئے عرض کیا کہ مکان میرا دور ہے۔یہاں لنگر خانہ میں آپ کے لئے کھانا تیار کروانے کا انتظام کردوں کیونکہ وہاں سے کھانا آتے آتے ٹھنڈا ہو جائے گا۔فرمایا نہیں بیٹی۔جو پکے وہی مجھے یہاں بھیج دینا۔میں یہاں گرم کروا کر کھالوں گی۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا (چونکہ آپ کی طبیعت خراب تھی جا نہیں سکتی تھیں )۔۴۷ حضرت زینب بی بی صاحبہ اہلیہ حضرت حاجی محمد فاضل فیروز آبادی ایک دفعہ یہ عاجزہ شہر فیروز پور سے قادیان دارالامان آئی تو حضرت اماں جان کو خاص طور پر ملنے کے لئے ان کے دولت خانے پر حاضر ہوئی۔جب کہ میرے دل میں بڑی گھبراہٹ تھی اور گرمی کا موسم تھا۔اور صبح کا وقت تھا۔حضرت اماں جان نے فرمایا۔زینب اتنی سویرے آج کیوں آئی ہو۔حضرت اماں جان ہمیشہ میرا نام لے کر پکارتی تھیں۔جس کی وجہ سے میرے دل میں بڑی خوشی تھی۔اور میرے سفر کی ساری تھکاوٹ میرا نام لینے کی وجہ سے اتر جاتی تھی۔کہ اب میرا نام محبت سے لینے والا سوائے حضرت اماں جان کے اور کون ہے؟ اور پھر اس عاجزہ کی حیثیت ہی کیا ہے۔کہ مجھ نا چیز غریبنی کا حضور نام لے کر پکارتی ہیں۔جب انہوں نے پوچھا کہ زینب اتنے سویرے کیوں آئی ہو۔تو میں نے حضرت اماں جان کی خدمت میں عرض کی کہ حضور میں نے بیت الدعا میں نفل پڑھنے ہیں اور دعائیں مانگتی ہیں۔حضرت اماں جان نے فرمایا کہ اگرچہ میں نے یہ بیت الدعامیاں محمود ایدہ اللہ کے لئے وقف کی ہوئی ہے۔لیکن آج وہ چونکہ پھیر پیچی جارہے ہیں۔اور میں بھی اُن کے ساتھ وہاں جارہی ہوں اس لئے تم کو بیت الدعا میں نفل پڑھنے کی اجازت ہے۔لیکن اس شرط کے ساتھ اجازت دیتی ہوں۔کہ میرا میاں ناصر ولایت گیا ہوا ہے۔اس کی کامیابی کے لئے بھی دعا کرنا۔اور وہ اعلیٰ ڈگری پاس کر کے آجاوے۔آمین۔پھر میں نے حضرت اماں جان کی خدمت میں یہ عرض کی کہ حضور کتنے وقت کے لئے مجھے بیت الدعا میں نفل پڑھنے اور دعائیں مانگنے کی اجازت ہے؟ اس کے جواب میں حضور نے فرمایا۔زینب جتنا وقت تمہارا جی چاہے۔اتنی ہی اجازت ہے۔اس کے بعد حضرت اماں جان پھیر و هیچی تشریف لے گئیں۔اور یہ عاجز ہ حضور کورخصت کرنے کے لئے نیچے چلی گئی۔جب میں حضور کو نیچے جا کر رخصت کر کے واپس آئی تو میں نے دیکھا کہ ایک خادمہ حضرت اماں جان کی بیت الدعا کو تالا لگانے لگی۔تو اُس خادمہ کو بیت الدعا کا تالا لگاتے دیکھ کر