سیرت حضرت اماں جان — Page 204
204 اس دنیا سے ظاہری طور پر تو اُٹھ گیا۔لیکن ہمارے قلوب سے نہیں نکلا۔ان جذبات کے ہوتے ہوئے کون کہہ سکتا ہے کہ وہ صرف چند افراد کی جسمانی طور پر ماں تھی۔اور قوم کی ماں نہیں تھی۔ایک ہی مضمون میں آپ کے اخلاق حسنہ کے مختلف حصوں پر روشنی ڈالنا تو ناممکن ہے اور میرے خیال میں تو کسی ایک اخلاق کو بھی کما حقہ الفاظ میں مقید نہیں کیا جاسکتا۔تاہم میں مندرجہ بالا عنوان کے ماتحت کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔میں ۱۹۱۹ء میں قادیان آیا۔اور ۱۹۲۰ء میں میری والدہ مرحومہ بھی میرے پاس قادیان آگئیں۔میری والدہ محترمہ کے والد یعنی میرے نانا خلیفہ حبیب اللہ ایک بہت بڑے پیر خواجہ احرار غزنوی کے ہندوستان کے لئے خلیفہ تھے۔چنانچہ جب میں ۷ سال کی عمر میں احمدی ہوا۔تو نا نا صاحب کو بہت شاق گزرا۔اور اُنہوں نے مجھے بہت دکھ دیئے۔وہ کہا کرتے تھے۔کم بخت لوگ تو ہماری بیعت کرتے ہیں۔اور تم قادیان والے کے مرید بن گئے۔میری والدہ محترمہ نے گو مجھے کچھ نہیں کہا۔بلکہ مجھے چھوٹی عمر میں پابند دین دیکھ کر خوش ہوا کرتی تھی۔لیکن خود احمدی ہو جانا ان کے لئے ناممکن کے قریب قریب تھا۔کیونکہ ان پر اپنے والد کی پوزیشن کا بہت اثر تھا۔میرے منت سماجت سے وہ میرے پاس قادیان چلی تو آئیں۔مگر مجھ سے وعدہ لیا کہ میں ان سے احمدیت کے متعلق کچھ نہ کہوں۔البتہ میں انہیں حضرت اماں جان سے ملتے رہنے کی تلقین کرتا رہا۔آہستہ آہستہ حجاب دور ہوا۔اور میری والدہ محترمہ حضرت اماں جان سے ملنے لگیں۔اور ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے۔کہ ایک دن بیعت کر کے آگئیں۔اور کہنے لگیں یہاں کی تو دنیا ہی اور ہے۔حضرت اماں جان کی شفقت اور محبت کو اس طرح بیان کیا کہ میں خود حیران ہو گیا۔میری والدہ کا تجربہ تو یہ تھا۔کہ بڑے گھرانے کی عورتیں غریب عورتوں سے بات کرنا بھی تو ہین سمجھتی ہیں۔میری والدہ نے یہ حسنِ سلوک دیکھ کر ہی مجھے مجبور کیا کہ ہم اب قادیان میں ہی دکان بنالیں۔اور یہیں مستقل طور پر ہجرت کر آئیں۔گویا میری والدہ کا احمدی ہونا اور میری ہجرت اسی پاک وجود کی شفقت کا نتیجہ تھی۔۱۹۲۱ء میں میری شادی کے لئے میری والدہ نے کوشش شروع کی۔حضرت اماں جان نے کئی لڑکیاں دکھا ئیں اور میری والدہ انکار کرتی رہیں۔مگر اماں جان ناراض نہیں ہوئیں اور اچھے رشتے کی تلاش جاری رکھی۔یہ شفقت میرے جیسے غریب آدمی کے ساتھ تھی۔ایک دفعہ مجھے گھر بلا کر بھی