سیرت حضرت اماں جان — Page 196
196 قادیان۔فرمایا کھانا ساتھ لے لیا ہے؟ میں نے عرض کیا نہیں۔فرمایا۔راستہ میں تمہیں کھانا کہاں ملے گا اور اسی وقت ارشاد فرمایا کہ کھانا تیار کر کے دیا جائے۔چنانچہ مجھے کھانا پکا کر دے دیا گیا۔یہ شفقت اور محبت ایک مادر مہربان ہی کے قلب میں پیدا ہوسکتی ہے۔اس مادر مہربان کے قلب میں جو ہر بچہ کو حسب مواقع اپنی شفقت کے سایہ میں لینے کے لئے بے تاب ہوتی ہے۔الہی تو بڑے بڑے افضال اور برکات نازل فرما۔ہماری اس روحانی ماں پر اور اپنے قرب میں انہیں بلند ترین مقام عطا کر۔آمین یا رب العلمین۔۳۶ اہلیہ ڈاکٹر گوہر دین صاحب ہمدردی خلق میں برما سے قادیان والدین کے پاس آئی ہوئی تھی۔ہمارے گھر سے دارالمسیح آواز پہنچنا آسان ہے اگر آواز زور کی ہو، ایک روز میں گھر میں نہ تھی۔میری چھوٹی بہن سیٹرھیوں سے گر پڑی۔جس پر وہ اور دوسرے بھائی بہن خوب چلائے۔ان کا شور اماں جان کے کان تک پہنچا۔آپ مغرب کی نماز کے لئے وضو فرما رہی تھیں۔یکے بعد دیگرے کئی عورتوں کو ہمارے گھر روانہ کر دیا۔کہ دیکھو شاید حفیظ کو دورہ ہوا ہے۔وضو کر چکنے کے بعد خود بھی برقعہ پہن کر چل پڑیں۔ابھی احمدیہ چوک تک تشریف لائی تھیں۔کہ ان کی بھیجی عورتیں واپس آتی مل گئیں۔خیریت معلوم ہونے پر واپس لوٹ گئیں۔دوسرے دن میں حاضر ہوئی۔تو گلے لگا کر فرمایا کل شام کو تمہارے گھر سے آوازیں آئیں۔تو میں اس خیال سے گھبراگئی۔کہ تم کو شاید دورہ ہوا ہے۔عورتوں کو روانہ کرنے کے بعد خبر گیری کے لئے۔میری تسلی نہ ہوئی اس لئے میں خود بھی دوڑی میں نے کہا اس کی ماں بھی نہیں نہ یہاں میاں ہے۔اس لئے میں خود جاؤں۔اللہ اللہ آج کون ہے جو ہمارے درد میں اس طرح شریک ہو۔صرف اس لئے کہ ان کی روحانی بیٹی جو چند روز کے لئے آئی ہے۔اور تنہا ہے۔اسے اس بیماری میں تسکین کی ضرورت ہوگی۔اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل ہوں آپ کے مرقد پاک پر ۳۷ برما پر جاپانی محاصرہ کے وقت میں اور ڈاکٹر صاحب وہیں تھے۔جب کئی برس بعد ہر طرف امن وامان ہو گیا۔تو ہم اپنے پیارے مرشد و مرکز کی طرف شوق کے قدموں سے لوٹے۔