سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 195 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 195

از مکرمه امته الرشید شوکت صاحبه 195 ایک بار میری والدہ اپنی بچی ( والدہ مولوی قمر الدین صاحب ) اور چچازاد بہن ہمشیرہ مولوی قمر الدین صاحب) کے ہمراہ حضرت اماں جان کی خدمت میں گئیں۔کھانے کا وقت تھا۔آپ کے سامنے تازہ پھلکے اور کڑھی ( جو پکوڑے ڈال کر تیار کی گئی تھی ) اور کھیر کی پلیٹیں رکھی ہوئی تھیں۔میری والدہ اور میری نانی اور خالہ فرش پر سلام کر کے بیٹھ گئیں۔حضرت اماں جان نے چند پھلکے کڑھی کی پلیٹ اور کھیر کی ایک پلیٹ میری نانی جان کو جو آپ کے قریب بیٹھی تھیں عنایت کیں۔انہوں نے اس تبرک کو آپس میں تقسیم کر لیا۔تھوڑی دیر کے بعد اماں جان نے فرمایا کہ ”سارہ کو بھی دینا ( یہ میری والدہ کا نام ہے ) میری نانی جان نے جواب دیا کہ اماں جان میں نے اس کو بھی دیا ہے۔یہ ایک معمولی سی بات ہے لیکن اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس طرح آپ کسی کے دل میں آنے والے خیال کو فورا بھانپ لیتی تھیں۔آپ نے تبرک میری والدہ کی چچی کے ہاتھ میں دیا تھا۔میری والدہ کے دل میں طبعا یہ خیال آ سکتا تھا کہ افسوس مجھے آپ کے ہاتھ سے تبرک لینے کا شرف حاصل نہیں ہوا۔ان الفاظ نے ان کے اس غم کو دور کر دیا اور وہ خوش ہو گئیں۔اللہ للہ کیا شان ہے خدا کے پیاروں کی۔وہ کیسے ہر ایک کی دلداری کرتے اور کس طرح ہر ایک کے جذبات کو بھانپ لیتے ہیں۔۳۵ مادر مهربان مکرم خواجہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل تحریر کرتے ہیں: ایک دفعہ میں کشمیر کے سفر میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے خدام میں شامل تھا۔ان ހނ دنوں سکھوں اور ہندوؤں نے قادیان میں مذبحہ کی بناء پر شورش بر پا کر رکھی تھی۔پہلگام - سرینگر کو واپسی کے لئے حضور لاریوں کے اڈے میں کھڑے تھے۔قادیان کا تار ملا کہ اردگرد کے سکھوں نے بہت بڑی تعداد میں حملہ کر کے مذبحہ گرا دیا ہے۔سرینگر پہنچ کر حضور کو ناظر صاحب اعلیٰ کا ایک اور تار ملا کہ غلام نبی کو بھیج دیا جائے۔حضور نے پہلے تو پسند نہ فرمایا۔اور فرمایا! اخبار کے لئے وہیں انتظام کرنا چاہیئے۔لیکن دوسرے دن مجھے فرمایا تم چلے جاؤ۔میں تیار ہو کر روانہ ہونے والا تھا کہ حضرت اُم المومنین، پاس سے گزریں۔اور فرمایا۔کہاں جاتے ہو۔میں نے عرض کیا