سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 197 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 197

197 جب اماں جان رضی اللہ عنہا سے شرف دید پایا۔آپ نے انتہائی محبت سے سینہ سے لگالیا۔بڑی دیر تک لگائے رکھا۔جب علیحدہ فرمایا تو میں وہ کیفیت بیان کرنے سے قاصر ہوں۔جس کے ساتھ آپ نے فرمایا۔” میں جب برما میں بمباری کی خبر سنتی تو کہتی اللہ میری حفیظ اللہ میری حفیظ “آہ میری پیاری مقدس ماں دنیا بھر کی نعمتوں سے بالا تر تھی۔۳۸ امتہ الحمید بیگم اہلیہ قاضی محمد رشید صاحب آف نوشہرہ میں جب بھی کبھی حضرت اماں جان کے پاس جاتی تو آپ پوچھتیں کہ تمہارے میاں کہاں ہیں؟ چنانچہ ۱۹۴۳ء میں جب میرے میاں قاضی محمد رشید صاحب بمبئی میں تھے اور ان کی طرف سے خط آیا کہ کھانے وغیرہ کا خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے وہ کچھ تکلیف میں ہیں۔میں نے حضرت اماں جان سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تمہارا میاں وہاں تکلیف میں ہے تو تم یہاں کیوں مزے کرتی ہو۔جاؤ اس کے پاس ضرور جاؤ۔آخر میں حضرت اماں جان کے کہنے کے مطابق بمبئی گئی اور آپ کی دعا اور توجہ سے خدا تعالیٰ نے برکت دی اور ابھی مجھے وہاں گئے صرف اٹھائیس دن گزرے تھے کہ میرے میاں کی تنخواہ ۱۹۵ سے بڑھ کر ۴۰۰ روپیہ ہوگئی اور بمبئی سے سکندر آباد دکن تبادلہ ہو گیا۔چنانچہ جب میں وہاں سے واپس آئی تو میں نے جا کر حضرت اماں جان سے ذکر کیا۔اور آپ مجھ سے وہاں کی باتیں پوچھتی رہیں اور یہ بھی پوچھا کہ وہاں تو ساڑھی پہنے کا رواج ہے کیا تم نے بھی پہنی تھی ؟ میں نے کہا کہ بوجہ شرم کے میں نے نہیں پہنی۔آپ نے فرمایا ضرور پہنی چاہیئے تھی۔۳۹ حضرت مولانا ظہور حسین صاحب بخارا ۱۹۳۳ء میرا نکاح حضرت امیر المومنین خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہتعالیٰ بنصرہ العزیز نے پڑھایا۔تو اسی دن حضور کسی کام کے لئے گھر سے باہر تشریف لائے اور ایک دوست وہاں کھڑے تھے۔میں بھی تھا۔حضور نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔کہ مولوی ظہور حسین کا نکاح پڑھنے کے بعد میں نے گھر آکر حضرت اُم المومنین سے دریافت کیا کہ میں اس کا نکاح تو پڑھا آیا ہوں۔آپ کو علم ہے۔کہ اس کی بیوی اور والدین کیسے ہیں؟ اس پر حضور نے فرمایا کہ حضرت اُم المومنین نے فرمایا کہ ہاں میں اُن کو خوب جانتی ہوں۔وہ نیک اور شریف لوگ ہیں۔اور لڑ کی اچھی ہے“۔اس پر میں نے خدا تعالیٰ کا بڑا شکر ادا کیا۔کہ اول حضور کی ہم عاجزوں کی طرف کتنی نوازش ہے۔اور یہ