سیرت حضرت اماں جان — Page 181
181 تاثرات مکرمہ عائشہ بی بی صاحبہ والدہ مکرم مجید احمد صاحب در ولیش قادیان قادیان آکر پہلے پہل میرے لڑکے محمد حسین کی شادی ہوئی۔اس کی شادی پر بہت امداد کی اور پچیس روپے نقد دیئے۔بعد میں عزیزی صنوبر کی شادی پر بھی کافی امداد کی۔ایک جوڑا اور بہیں روپے نقد دیئے۔اس کے بعد عزیزم مجید احمد مرحوم کی شادی پر بھی امداد کی۔مجید احمد مرحوم کی شادی پر عزیزم محمد حسین نے پچاس روپے اُدھار مانگے مگر اُدھار نہیں دیا اور نقد پچیس روپے بطور امداد دے دیئے۔جب کبھی میں نے کوئی چیز طلب کی وہ دے دی اور انکار نہیں کیا۔اس کے علاوہ سب سے بڑھ کر یہ کہ میرے لئے اور میرے بچوں کے لئے دعائیں فرمایا کرتیں۔اب جبکہ قادیان سے ہجرت ہوئی تو خداوند تعالیٰ کی حکمت ہجرت کے بعد میرے دو بچے عزیزم محمد حسین اور مجید احمد دونوں قادیان درویشوں میں رہ گئے تھے۔عزیزم محمد حسین تو مئی ۱۹۴۸ء میں واپس آگیا اور عزیزم مجید احمد قادیان رہ گیا۔۱۹۴۹ء میں ماہ رمضان کے شروع میں وہ بیمار ہو گیا اور اسی سال حج کے دن مولا حقیقی کو جاملا۔عزیزم کی بیماری کے دوران میں جتنی دعائیں سیدہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیں اتنی اور کسی نے نہیں کیں۔لیکن حکم خداوندی یہی تھا کہ عزیزم مرحوم نے اتنا ہی دنیا میں رہنا تھا۔عزیزم کی بیماری کے دوران میں جب خبریں آنی شروع ہوئیں تو معلوم ہوا کہ اب اس کو آرام ہے جو دراصل موت کا سنبھالا تھا۔مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کا لڑکا عبدالسلام قادیان سے آیا اس نے آ کر کہا که عزیزم مجید احمد کو آرام ہے اور اُس نے کہا کہ مجید احمد کپڑے مانگتا تھا تو حضرت اماں جان کو علم ہونے پر ۳۰ روپے دیئے اور پنجیری اپنے پاس سے تقسیم کی کہ مائی کے لڑکے کو اللہ تعالیٰ نے صحت دی ہے۔اور اتنی خوش ہو ئیں کہ جس کا ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔۔اسی طرح ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ میں قادیان میں تھی۔حضرت اماں جان ڈلہوزی گئی ہوئی تھیں تو ڈلہوزی سے خاص کر میرے لئے زردہ پکوا کر بھجوایا۔رستہ میں حضور نے دریافت کیا کہ اس برتن میں کیا ہے؟“ تو جواب ملا زردہ پکا ہوا ہے۔فرمایا " لاؤ کھائیں۔جواب میں عرض کیا گیا یہ حضرت اماں جان نے مائی کے لئے بھیجا ہے تو حضور نے فرمایا ” اس کو نہ چھیڑنا۔غرضیکہ چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی میرے بچوں کو بہت دیا کرتی تھیں۔ایک سال کی بات ہے کہ میں نے دریاں مانگیں کہ میرے