سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 182 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 182

182 بیٹے محمد حسین کے لئے چاہئیں فورا نکال کر دیدیں اور فرمایا لے جاؤ۔“ میں کہہ سکتی ہوں کہ یہ جو مضامین آجکل اخباروں میں نکل رہے ہیں یا پہلے سیرۃ کی صورت میں شائع ہوئے ہیں یہ تو ایک خاکہ ہے حضرت اُم المومنین کی زندگی کا میں کیا بیان کروں۔حضرت اماں جان کی خدمت سے جدا ہونے کے بعد بھی میری بہت عزت ہو رہی ہے خود پیارے آقا و مطاع حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے میرا خیال فرمایا ہے اور محترمہ مریم صدیقہ نے میرے لڑکے محمد حسین کو پیغام بھجوایا ہے کہ تم کوئی فکر نہ کرنا جس طرح مائی کو حضرت اماں جان جانتے تھے اُسی طرح ہم مائی کا خیال رکھیں گے۔اور جس چیز کی مائی کو ضرورت ہو وہ ہم سے لے۔میں کیا چیز تھی حضرت اُم المومنین کے پاس رہنے کی وجہ سے دُنیا جانتی ہے اور عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور میرے بچوں کو بھی دنیا جانتی ہے اور یہ سب کچھ حضرت اُم المومنین کی برکتیں ہیں۔پس خداوند تعالیٰ کی بیحد رحمتیں نازل ہوں۔اُس بے نظیر وجود پر کہ نہ ۱۳ سو سال میں حضرت محمد مصطفے ﷺ کے بعد کوئی ماں کی بچی پیدا ہوئی نہ قیامت تک ہوگی۔میرا ایمان ہے۔پس میں کیا کیا لکھوں۔۷ اسال کے اندر جو احسانات مجھ پر حضرت اماں جان نے کئے اگر ایک ایک کر کے لکھوں تو کتاب بن جائے۔اور میں تو کہتی ہوں کہ کوئی ماں کا لال حضرت اُم المومنین کی سیرت لکھ ہی نہیں سکتا۔یہ سب خدا وند تعالیٰ کا فضل ہے جو حضرت ام المومنین کی بدولت مل رہا ہے نہیں تو لاکھوں انسان دنیا میں پڑے ہیں جو بڑی بڑی شان رکھتے ہیں مگر دنیا انہیں جانتی تک نہیں ہے۔میں ایک ناچیز سی ہوں حضرت اُم المومنین کے ساتھ رہنے کی وجہ سے دُنیائے احمدیت مجھے جانتی ہے۔۲۰ مشفق و مهربان ماں اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب آف مشرقی افریقہ جب میں افریقہ سے واپس آئی تو سٹیشن سے اُترتے ہی حضرت اماں جان سے ملنے کے لئے الدار گئی۔میں چونکہ ایک لمبی بیماری سے اٹھی تھی اس لئے سیٹرھیاں جلدی جلدی نہ چڑھ سکتی تھی لیکن مشفق و مہربان اماں جان پہلے ہی سے اپنی اس خادمہ کے انتظار میں کمرے کے