سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 180 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 180

180 ناظم جائداد صدرانجمن احمد یہ قادیان) نے مکان بنایا جو بہشتی مقبرہ روڈ پر واقع ہے۔تو ابتداء میں اس کا صرف کچھ حصہ تعمیر ہوا تھا آپ بڑی محبت سے دیکھنے کے لئے تشریف لائیں اور مبارک باد دی اور فرمایا اتنے پر اکتفا نہ کرنا مکان اور زیادہ وسیع کرنا۔ہمارے والد صاحب مرحوم نے ان کے ارشاد کی تعمیل میں صحن بڑھا کر کچھ وسعت کر لی۔پھر کچھ عرصہ کے بعد حضرت اماں جان تشریف لائیں تو پھر ہماری والدہ سے فرمایا کہ ” ہمارے مرزا صاحب سے کہہ کر صحن اور کھلا کرو اور کمرے بھی بڑھا لو۔ہماری والدہ صاحبہ نے غلطی سے عرض کیا کہ میرا تو ایک ہی لڑکا ہے اتنے مکان بنا کر کیا کرنے ہیں۔فرمانے لگیں کہ لڑکیاں بھی تو تمہاری ہی ہیں شریعت نے اُن کا بھی باپ کی جائداد میں حق رکھا ہے۔غرض حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے اصرار پر والد صاحب نے مکان کو بہت وسیع کر لیا اور انہیں کی تحریک پر صحن میں کنواں لگوایا اور چوبارہ وغیرہ بنایا گیا۔جسے دیکھ کر آپ بہت خوش ہوئیں اور فرمانے لگیں ”اب مکان بہت اچھا بن گیا ہے۔مرزا صاحب میں فرمانبرداری کا مادہ بہت ہے۔۱۸ جب میری شادی ہوئی تو والدہ صاحبہ کی تحریک پر رخصتانہ کے دن کمال محبت سے تشریف لائیں اور دعا فرمائی اور چونکہ گھر میں بھینس تھی اور اسی کے خالص گھی سے مٹھائی گھر میں حلوائی بلا کر بنوائی گئی تھی بہت پسند فرمائی اور اس کی بہت تعریف کی۔اس پر والدہ صاحبہ نے تین چار سیر مٹھائی گھر کے ناشتہ کے لئے پیش کر دی۔میر امکان جو دارالفضل میں واقع تھا وہاں بھی کئی دفعہ تشریف لائیں۔ایک دفعہ نواب صاحب کی کوٹھی تشریف لے جارہی تھیں اور کئی عورتیں اور دوتین صاحبزادیاں ہمراہ تھیں۔فرمانے لگیں کہ " تم تو کچھ صحت کی خرابی اور کچھ بچے چھوٹے ہونے کی وجہ سے زیادہ نہیں آتیں لیکن میرا جی چاہتا ہے تو میں خود دیکھ جاتی ہوں۔اس پر ایک صاحبزادی نے پوچھا کہ ”اماں جان! یہ کس کا مکان ہے؟ آپ نے فرمایا یہ ہمارے بابو فخر دین صاحب پنشنر جو کہ لاہور چھاؤنی میں رہتے تھے اور لاہور میں ہم اُن کے مکان پراکثر جایا کرتے تھے۔بابو صاحب اور اُن کی بیوی میری بہت خاطر خدمت کیا کرتے تھے، یہ ان کے لڑکے محمد یعقوب کا مکان ہے اور یہ لڑکی ہمارے مرزا صاحب کی جو پہلے محاسب ہوا کرتے تھے اور اب ناظم جائداد ہیں۔اس کا نام انور بیگم ہے لیکن میں اسے منورہ کہا کرتی ہوں۔19