سیرت حضرت اماں جان — Page 173
173 سے خیال رکھتی تھیں۔خواہ احمدی ہو یا غیر احمدی۔مجھے ایک واقعہ یاد ہے۔جس کے مروی شیخ نوراحمد صاحب مرحوم تھے انہوں نے ایک دفعہ فرمایا کہ حضرت اماں جان نے ایک دفعہ ایک بھینس مبلغ ستر روپیہ میں کرم دین جلا ہا کے پاس فروخت کی۔دوماہ کے بعد وہ بھینس مرگئی۔ایک دن حضرت اماں جان نے منشی صاحب سے دریافت فرمایا۔منشی صاحب وہ بھینس جو کرم دین کو دی تھی۔اس کا کیا حال ہے۔منشی صاحب نے جواب میں کہا کہ وہ تو مرگئی ہے۔حضرت اماں جان نے اسی وقت ستر روپیہ اندر سے لا کر منشی صاحب کو دے دیئے۔کہ لو یہ روپیہ کرم دین جولاہا کو دے آؤ۔وہ غریب آدمی ہے۔منشی صاحب وہ روپیہ حضرت اماں جان کے حکم کے مطابق کرم دین کو دے آئے۔ے از مکرمه سلطانه عزیز صاحبه ایک دفعہ قادیان میں میں نے حضرت اماں جان سے بیت الدعاء میں دعا کرنے کی درخواست کی تو آپ نے نہایت شفقت کریمانہ سے دعا کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔جب میں دعا کرنے سے فارغ ہو کر آئی تو آپ نے اپنے گلے سے پھولوں کا ہار اتارکر مجھے عنایت فرمایا۔جس کو میں نہایت حفاظت سے رکھا کرتی تھی مگر افسوس ہے کہ گذشتہ انقلاب میں ضائع ہو گیا مکرمہ امتہ الرحیم صاحبہ بنت حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی تحریر کرتی ہیں جب سیدہ حضرت امتہ الحئی کی وفات ہوئی تو اس وقت سارے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بالخصوص اور تمام جماعت کو بالعموم بہت رنج و ملال تھا۔لیکن باوجود اس کے حضرت سیدہ اطہرہ اپنے خدام اور خادمات کی خوشیوں اور غموں میں باقاعدہ شریک تھیں۔چنانچہ انہی دنوں عبدالقادر صاحب قادیانی کی شادی ہوئی تو حضرت سیدۃ النساء ہمارے گھر مبارک دینے کے لئے تشریف لائیں۔از امة الحمید بیگم اہلیہ قاضی محمد رشید آف نوشہرہ میری ہمشیرہ سعیدہ کی زوجہ مولوی ابوالعطاء صاحب کی شادی کی تقریب پر حضرت اماں جان ہمارے گھر تشریف لائیں اور جہیز کی سب چیزیں ایک ایک کر کے دیکھیں اور بہت خوشی کا اظہار