سیرت حضرت اماں جان — Page 172
172 بیٹی ہیں۔اور خود بھی انہیں نو سال کی عمر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کا شرف حاصل ہوا۔بیان فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ حضرت اماں جان حضرت ام ناصر احمد صاحب کے ہمراہ ہمارے گاؤں سیکھواں تشریف لائیں۔میرے نانا جان مرحوم اور دونوں چھوٹے بھائی اکٹھے ایک ہی جگہ رہتے تھے۔دیہاتی دستور کے مطابق متینوں گھروں میں جو کچھ پکا ہوا تھا وہ آپ کے سامنے رکھا گیا۔آپ نے وہ سادہ کھانا نہایت خوشی سے مزے لے لیکر کھایا۔موٹھ کی کھچڑی جود یہاتی سردیوں کے موسم میں اکثر کھاتے ہیں بہت پسند فرماتے تھے۔اور اس کے بعد بھی کبھی کبھی مائی کا کو کے ذریعہ اس قسم کی اشیاء منگواتی رہیں جو کہ آپ کی سادگی اور ہر ایک سے بے تکلفی اور مر بیا نہ سلوک کو ظاہر کرتی ہے۔میں آپ سے برکت حاصل کرنے کے لئے آپ کے پاس جایا تو کرتی تھی لیکن السلام علیکم اور دعا کے بعد آپ کے رعب اور اپنے شرم کے باعث کبھی زیادہ بات چیت نہ کرسکی۔قادیان کا ایک واقعہ یاد ہے۔ایک دن اپنی بھابھی کے ہمراہ حضرت اماں جان کی زیارت کو گئی۔آپ نے ہمارے خاندان کے مختلف افراد کا نام لے کر پوچھا کہ اُن کا کیا حال ہے اور وہ کہاں رہتے ہیں۔اسی طرح کھانے پینے کی چیزوں کا ذکر بھی شروع ہو گیا۔میں نے پوچھا۔۔۔اماں جان! آپ کو کونسی چیز پسند ہے۔میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کے لئے پکا کر لاؤں۔فرمانے لگیں۔بغیر گوشت کے پکے ہوئے کریلے جن میں تھوڑی سی کڑواہٹ باقی ہو“۔میں نے اسی دن شام کے وقت نہایت احتیاط سے کریلے تیار کئے اور حضرت اماں جان کی خدمت میں لے کر حاضر ہوگئی۔شام کا وقت تھا میں نے پلیٹ آپ کے سامنے کر دی۔حضرت اماں جان نے پوچھا یہ کیا ؟ میں نے عرض کی کہ کریلے پکا کر لائی ہوں۔آپ نے جزاک اللہ کہہ کر پلیٹ میرے ہاتھ سے لے لی اور ایک کریلا کھا کر فرمایا کہ تم نے بہت تکلیف کی۔لیکن یہ تکلیف تو میرے لئے عین راحت تھی۔۔۔از محترم ملک غلام نبی صاحب آف ڈسکہ حضرت اماں جان غریبوں سے ماؤں سے بڑھ کر ہمدردی فرماتی تھیں۔اور غریبوں کا ہر طرح