سیرت حضرت اماں جان — Page 174
174 فرمایا اور کئی گھنٹے تک ہمارے گھر رہیں۔ایک کھیں کو تو خاص طور پر پسند فرمایا اور پھر جب شادی کے بعد حضرت اماں جان اُن کے سرال میں گئیں اور وہ چیز میں دکھانے لگے تو آپ نے فرمایا میں یہ اشیاء سعیدہ کے ابا کے گھر دیکھ آئی تھی۔10 تاثرات حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ۱۹۱۷ء کا واقعہ ہے کہ مجھے مگروں کی بیماری سے بہت تکلیف تھی۔ایک رات مجھے سخت تکلیف ہوئی۔اور میں ساری رات نہ سوسکا۔حضرت ڈاکٹر محمد اسماعیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلوایا۔حضرت میر صاحب تشریف لائے۔اور خود اپنے ہاتھ سے دوائی لگا کر تشریف لے گئے۔اور شدت بیماری کا مجھ سے یا میری بیوی سے ذکر نہ کیا البتہ واپس گھر جا کر حضرت خلیفہ ایسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اور حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ذکر کیا کہ فتح محمد کی دائیں آنکھ تو تقریباً ضائع ہو چکی ہے اور آنکھ کی پتلی سے لے کر آنکھ کے آخر تک زخم ہے۔اور آنکھ کے اندر کی سفیدی نظر آتی ہے اور دوسری آنکھ کے ضائع ہونے کا بھی خطرہ ہے۔اس پر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اور حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دلوں میں درد اور ترحم پیدا ہوا۔اور اسی وقت میرے لئے دعا کی۔اور رات حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے رویا میں دیکھا کہ میں حضور ایدہ اللہ کے سامنے بیٹھا ہوں۔اور میری دونوں آنکھیں بالکل صحیح سلامت ہیں۔یہ رویا حضور نے صبح ہی حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کو سنایا۔تو حضرت ممدوحہ اسی وقت خوش خوش اور ہشاش بشاش ہمارے مکان پر تشریف لائیں۔اور میرے گھر میں تشریف لاکر مبارک باد دی کہ اللہ تعالیٰ جلدی صحت دے گا۔اور حضرت میر صاحب کی رپورٹ اور حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے رویا کا ذکر فرمایا۔اور فرمایا۔اب اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نازل ہوگا۔اور صحت ہو جائے گی۔بعد میں حضرت میر صاحب تشریف لائے۔اور آنکھ کی حالت کا معائنہ کر کے سخت حیرانی کا اظہار کیا کہ ایک رات میں زخم کا ۱۸ے حصہ مندمل ہو گیا۔اس کے بعد میری بیماری گھٹنی شروع ہو گئی۔اور میری دونوں آنکھیں درست ہو گئیں۔اور اللہ تعالیٰ نے ایک لمبا عرصہ خدمت سلسلہ کا موقعہ عطا فرمایا۔اور پھر دوبارہ کبھی ایسی تکلیف نہ ہوئی۔میں نے ہندوستان کے بعض ایسے