سیرت حضرت اماں جان — Page 139
139 تقریب ہوتی تھی۔آپ کا یہ دستور تھا کہ سیر کے لئے آتے اور جاتے ہوئے جماعت کی بہنوں کے گھروں میں تشریف لے جاتیں اور ہر گھر کے مناسب حال گھر اور لباس کی صفائی ، بچوں کی دیکھ بھال تعلیم و تربیت اور امورِ خانہ داری کے متعلق قیمتی ہدایات اور نصائح فرماتیں اور ساری جماعت کے ساتھ اس طرح براہ راست نہایت قریب کا ذاتی تعلق قائم رکھتیں۔ان کی آمد سے گھر گلزار بن جاتے۔آہ! آج وہ وجود ہم میں نہیں۔عورتوں میں بیکاری نا پسند فرماتیں حضرت اماں جان عورتوں میں بریکاری کو سخت نا پسند فرماتی تھیں۔آپ نہ خود بریکار رہتیں نہ دوسروں کا بیکار رہنا پسند کرتیں۔بسا اوقات خود چرخہ لے کر بیٹھ جاتیں اور اگر اسی دوران میں کوئی ایسی بہن آجاتی جس کا تنانہ آتا ہو تو اسے گودی میں بٹھا کر چرخہ کا تنا سکھلاتیں۔آپ کی طبیعت میں بے انتہا سادگی تھی۔گفتگو سادہ طریق ملاقات بناوٹ سے خالی ، رہنے سہنے کا ڈھنگ تکلف سے مبر ا۔کوئی ملنے آتا تو سادگی اور شفقت سے اُسے ملتیں کسی سے ملنے جاتیں تو سادگی اور محبت وہاں بھی آپ کے ساتھ ہوتی۔حضرت اماں جان کی مہمان نوازی تو ایک مسلمہ حقیقت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام خبر دی تھی کہ بڑی کثرت سے آپ کے پاس لوگ آئیں گے۔ان آنے والے مہمانوں کی مہمان نوازی کابار حضرت اماں جان ہی کے کندھوں پر تھا۔اس فرض کو آپ نے جس خوبی ، خوش اسلوبی اور عمدگی سے نبھایا کہ ایک دنیا اس کی گواہ ہے۔حضرت اماں جان اپنے بھائیوں کے لئے بہترین بہن ،اپنے بچوں کے لئے بہترین ماں ، اپنے خاوند کے لئے بہترین بیوی اور اپنے ماں باپ کے لئے بہترین بیٹی تھیں۔غریبوں کے لئے آپ کے دل میں خاص تڑپ تھی۔اور اُن کی امداد کے لئے آپ کا ہاتھ ہر وقت دراز رہتا تھا۔اپنے خادموں پر خاص شفقت فرماتی تھیں۔اگر کسی نوجوان خادمہ کے تنگ کرنے پر کبھی اُسے ڈانٹ ڈپٹ کی بھی تو پھر جلدی محبت ، شفقت اور انعام و اکرام سے اُسے خوش کر دیا۔گھر کی چھوٹی خاد ماؤں کو بیٹی کہہ کر پکارنا ، اُن کے کپڑوں اور کھانے پینے کا خود خیال رکھنا اور دوسری عورتوں پر نہ چھوڑنا آپ کا طریق تھا۔