سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 140 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 140

140 شکوہ و شکایت ،عیب چینی اور غیبت سے آپ کو از حد نفرت تھی۔ایسی باتیں نہ خود کر تیں نہ کسی سے ایسی باتوں کا سننا پسند فرماتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ اور اُن کی اولاد کے ساتھ آپ خاص طور پر محبت اور شفقت سے پیش آتیں اور ان کے لئے دعا ئیں فرماتی تھیں۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے یونہی مومنوں کی ماں نہیں کہہ دیا۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک ماں کی مامتا ہر فرد کے لئے آپ کے دل میں جاگزیں تھی۔تربیت اولاد تربیت اولا د جس خوبی اور عمدگی سے آپ نے کی خدا کے فضلوں کے ساتھ اس کا یہ نتیجہ ہے کہ ساری ہی اولاد آفتاب و ماہتاب بن کر دنیا میں چمک رہی ہے۔بیٹی کو شادی کے وقت رخصت کرتے ہوئے ماں کے کیا کچھ جذبات نہیں ہوتے۔آپ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت نواب مبارکہ بیگم کو شادی کے وقت جو نصیحتیں فرمائیں وہ زریں حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں مجھے شادی کے ایام میں آپ نے جو چند نصائح فرمائی تھیں وہ یہ ہیں فرمایا: (۱) اپنے شوہر سے پوشیدہ یا وہ کام جس کو اُن سے چھپانے کی ضرورت سمجھو ہرگز کبھی نہ کرنا۔شوہر نہ دیکھے مگر خدا دیکھتا ہے اور بات آخر ظا ہر ہو کر عورت کی وقعت کو کھو دیتی ہے۔(۲) اگر کوئی کام اُن کی مرضی کے خلاف سرزد ہو جائے تو ہرگز کبھی نہ چھپانا صاف کہہ دینا۔کیونکہ اس میں عزت ہے اور چھپانے میں آخر بے عزتی اور بے وقری کا سامنا ہے۔(۳) کبھی اُن کے غصہ کے وقت نہ بولنا تم پر یا کسی نوکر پر یاکسی بچہ پر خفا ہوں اور تم کو علم ہو کہ اس وقت یہ حق پر نہیں ہیں جب بھی اُس وقت نہ بولنا۔غصہ تقسم جانے پر پھر آہستگی سے حق بات اور ان کا غلطی پر ہونا اُن کو سمجھا دینا۔غصہ میں مرد سے بحث کرنے والی عورت کی عزت باقی نہیں۔اُن کے عزیزوں کو، عزیزوں کی اولاد کو اپنا جاننا۔کسی کی برائی تم نہ سوچنا اور عمل سے بھی بدی کا بدلہ نہ لینا۔پھر دیکھنا ہمیشہ خدا تمہارا ہی بھلا کرے گا۔“