سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 138 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 138

138 روز آپ کے پاس رہنے اور آپ کی خدمت کی سعادت حاصل ہوئی وہ آپ کو بتلائیں گے کہ اس تکلیف اور بیماری کے لمبے عرصہ میں کبھی ایک دفعہ بھی تو ایسا نہیں ہوا کہ کوئی بے صبری کا کلمہ آپ کی زبان پر آیا ہو اور کوئی جزع فزع کی بات آپ نے کی ہو۔بلکہ وفات سے کچھ وقت پہلے اگر کوئی بات آپ کی زبان پر تھی اور آپ کا دماغ کسی طرف مائل تھا تو وہ صرف دعا تھی۔آخری حرکت جو آپ نے کی وہ یہی تھی کہ خدا کی طرف آپ کا رجوع تھا اور دعا کے لئے آپ نے ہاتھ اُٹھا دیئے تھے اور کلام الہی کے سنائے جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔تاریخ احمدیت کا مشہور واقعہ ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ہوا تو حضرت اماں جان کی زبان مبارک پر یہی الفاظ تھے کہ ”اے خدا یہ تو ہمیں چھوڑ چلے ہیں پر تو ہمیں نہ چھوڑ یو۔“ گویا اُس وقت بھی آپ کا آخری سہارا اور آخری نظر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تھی۔اور جب اس واقعہ کے چوالیس برس بعد خود حضرت اماں جان کی اپنی وفات کا وقت قریب آیا تو اس وقت بھی آپ کی نظر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف تھی۔وہی پاک و برتر ہستی آپ کا آخری سہارا تھی۔عام انسانوں کو تو دوسروں کی تکلیف کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی۔لیکن جب کوئی شخص خود تکلیف میں ہو اُس وقت تو دوسروں کے دکھ اور تکلیف کا احساس اُسے بالکل رہتا ہی نہیں۔لیکن حضرت اماں جان کردار کی اس پستی سے بہت زیادہ بلند تھیں۔صحت و آرام کے وقت ہی نہیں بلکہ اپنی بیماری اور تکلیف کے دنوں میں بھی دوسروں کے آرام و راحت کا انہیں ہمیشہ خیال رہا۔چنانچہ آپ کی بیماری کے ایام میں جب کبھی بھی آپ سے پوچھا جاتا آپ کی طبیعت کیسی ہے تو اس خیال سے کہ میری تکلیف کی وجہ سے تیمارداروں کو تکلیف نہ پہنچے اور اُن کے حوصلے پست نہ ہوں تو آپ بڑی بلند حوصلگی کے ساتھ فرماتیں ” بہت اچھی ہے“۔بیماری کے ایام میں یہ حوصلہ اور دوسروں کے آرام کا اس درجہ خیال ہر کسی کا کام نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات کو بلند سے بلند تر کرتا چلا جائے۔آمین ! حضرت اماں جان ہم سے جدا ہو چکی ہیں مگر اس وقت بھی آپ کا چلتا پھرتا وجود آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے آپ کا طریق تھا کہ اکثر سیر کو تشریف لے جاتیں تھیں مگر یہ سیر تو محض ایک