سیرت حضرت اماں جان — Page 137
137 سیرت و اخلاق کے درخشندہ پہلو از امته الرحمن بیگم مولوی عبد المنان عمر صاحب ) حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر کے ماتحت ہوئی۔آپ بہنیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ کس طرح حضرت اماں جان کی بیماری کے دنوں میں ساری جماعت نے نہایت الحاح، زاری اور خشوع و خضوع کے ساتھ دعاؤں پر دعائیں کیں۔صدقات پر صدقات دیئے۔علاج کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا گیا۔لیکن آہ! الٹی نوشتے پورے ہوئے اور ایسا محترم مکرم ، ایسا مطہر اور ایسا پیارا وجود دیکھتے دیکھتے ہم سے رخصت ہو گیا۔یہ اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر نہیں تھی تو اور کیا تھا۔اور وہ اللہ تعالیٰ کے بہت ہی خاص وجود ہوتے ہیں جن کے لئے اللہ تعالیٰ کی خاص تقدیر کام کرتی ہے۔حضرت اماں جان تقریباً دو ماہ بستر علالت پر رہیں۔جماعت نے اس عرصہ میں جیسا کہ میں نے بیان کیا خاص طور پر دعاؤں اور صدقات کی طرف توجہ دی اور انابت الی اللہ کا وہ بے نظیر نمونہ دکھایا جس کی مثال صرف اور صرف انہی جماعتوں میں ملتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مامور کی قائم کردہ ہوتی ہیں۔عام طور پر بیماریاں عام لوگوں کے لئے ابتلاؤں، مصیبتوں اور بے صبریوں کے مظاہروں کا موجب بنتی ہیں لیکن حضرت اماں جان کی علالت قوم کی قوم کو خالق حقیقی کے دروازے پر جھکا دینے اور رجوع الی اللہ کا موجب ہوئی۔اور اس وجود باجود کی بیماری نے بھی قوم کو عظیم الشان نعمتوں سے متمتع کر دیا۔ہر کسی کو یہ مقام کہاں میسر ہوتا ہے اور ہر کسی کے وجود میں اتنی عظیم الشان نعمتیں کہاں مرکوز ہوتی ہیں۔بیماری کے ایام میں ہی انسان کی حقیقی خوبیاں ظاہر ہوتی ہیں۔کمزور ایمان کا انسان جزع فزع کرتا ہے ، بے صبری کے کلمات منہ سے نکلتے ہیں اور ایک ایسا رویہ انسان اختیار کر لیتا ہے جو حقیقی مومن کی شان سے بعید ہوتا ہے۔لیکن حضرت اماں جان کتنا لمبا عرصہ بیمار رہیں کتنی شدید بیماری میں سے گزریں۔کیسی کیسی تکلیفیں آپ کو ہوئیں لیکن جن لوگوں کو آپ کی بیماری کے ایام میں شب و ہی افسوس ہے کہ حضرت اماں جان کی وفات کے جلد بعد مضمون نگار اور ان کے خاوند جماعت سے لاتعلق ہو گئے۔