سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 64 of 315

سیرت طیبہ — Page 64

۶۴ فرماتے ہوئے ٹہل رہے تھے۔جب میں چونک کر جا گا تو دیکھا کہ حضرت مسیح موعود میری چارپائی کے پاس نیچے فرش پر لیٹے ہوئے تھے۔میں گھبرا کر ادب سے کھڑا ہو گیا۔حضرت مسیح موعود نے بڑی محبت سے پوچھا مولوی صاحب ! آپ کیوں اٹھ بیٹھے؟ میں نے عرض کیا حضور نیچے لیٹے ہوئے ہیں میں اوپر کیسے سوسکتا ہوں؟ مسکرا کر فرمایا آپ بے تکلفی سے لیٹے رہیں میں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔بچے شور کرتے تھے تو میں انہیں روکتا تھا تا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آئے۔اللہ اللہ ! شفقت کا کیا سیرت مسیح موعود مصنفہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب صفحہ ۳۶) عالم تھا !! (14) اب ذرا غریبوں اور سائلوں پر شفقت کا حال بھی سن لیجئے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود کے گھر میں کسی غریب عورت نے کچھ چاول چرا لئے۔لوگوں نے اسے دیکھ لیا اور شور پڑ گیا۔حضرت مسیح موعود اس وقت اپنے کمرے میں کام کر رہے تھے شور سن کر باہر تشریف لائے تو یہ نظارہ دیکھا کہ ایک غریب خستہ حال عورت کھڑی ہے اور اس کے ہاتھ میں تھوڑے سے چاولوں کی گٹھڑی ہے۔حضرت مسیح موعود کو واقعہ کا علم ہوا اور اس غریب عورت کا حلیہ دیکھا تو آپ کا دل پسیج گیا۔فرمایا یہ بھوکی اور کنگال معلوم ہوتی ہے اسے کچھ چاول دے کر رخصت کر دو اور خدا کی ستاری کا شیوہ اختیار کرو۔(سیرت حضرت مسیح موعود مصنفہ عرفانی صاحب حصہ اول صفحہ ۹۸) اس واقعہ پر کوئی جلد باز شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ بات تو چوری پر دلیری پیدا کرنے