سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 65 of 315

سیرت طیبہ — Page 65

والی ہے مگر دانا لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ جب مال خود حضرت مسیح موعود کا اپنا تھا اور لینے والی عورت ایک بھوکوں مرتی کنگال عورت تھی تو یہ چوری پر اعانت نہیں بلکہ حقیقتاً اطعام مسکین میں داخل ہے۔حدیثوں سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسے حالات میں جبکہ چوری کرنے والا بہت غریب ہوا اور انتہائی بھوک کی حالت میں کوئی کھانے کی چیز اٹھالے تو اسے سارق نہیں گردانا بلکہ چشم پوشی سے کام لیا ہے۔(۱۷) ایک دفعہ جبکہ حضرت مسیح موعود چہل قدمی سے واپس آکر اپنے مکان میں داخل ہو رہے تھے کسی سائل نے دور سے سوال کیا۔مگر اس وقت ملنے والوں کی آوازوں میں اس سائل کی آواز گم ہو کر رہ گئی اور حضرت مسیح موعود اندر چلے گئے۔مگر تھوڑی دیر کے بعد جب لوگوں کی آوازوں سے دور ہو جانے کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کے کانوں میں اس سائل کی دکھ بھری آواز کی گونج اٹھی تو آپ نے باہر آ کر پوچھا کہ ایک سائل نے سوال کیا تھا۔وہ کہاں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت وہ تو اسی وقت یہاں سے چلا گیا تھا۔اس کے بعد آپ اندرون خانہ تشریف لے گئے مگر دل بے چین تھا۔تھوڑی دیر کے بعد دروازہ پر اسی سائل کی پھر آواز آئی اور آپ لپک کر باہر آئے اور اس کے ہاتھ پر کچھ رقم رکھ دی اور ساتھ ہی فرمایا کہ میری طبیعت اس سائل کی وجہ سے بے چین تھی اور میں نے دعا بھی کی تھی کہ خدا اسے واپس لائے۔(سیرۃ المہدی جلد ا حصہ اول روایت ۲۹۸ صفحه ۲۶۹)