سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 62 of 315

سیرت طیبہ — Page 62

۶۲ (IM) انسان کے اخلاق میں مہمان کا بھی ایک خاص مقام ہوتا ہے اس تعلق میں ایک مختصرسی بات کے بیان کرنے پر اکتفا کرتا ہوں ایک بہت شریف اور بڑے غریب مزاج احمدی سیٹھی غلام نبی صاحب ہوتے تھے جو رہنے والے تو چکوال کے تھے مگر راولپنڈی میں دکان کرتے تھے۔انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں حضرت مسیح موعود کی ملاقات کے لئے قادیان آیا۔سردی کا موسم تھا اور کچھ بارش بھی ہو رہی تھی۔میں شام کے وقت قادیان پہنچا تھا۔رات کو جب میں کھانا کھا کر لیٹ گیا اور کافی رات گذر گئی اور قریباً بارہ بجے کا وقت ہو گیا تو کسی نے میرے کمرے کے دروازے پر دستک دی۔میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا تو حضرت مسیح موعود کھڑے تھے ایک ہاتھ میں گرم دودھ کا گلاس تھا اور دوسرے ہاتھ میں لالٹین تھی۔میں حضور کو دیکھ کر گھبرا گیا مگر حضور نے بڑی شفقت سے فرمایا۔کہیں سے دودھ آ گیا تھا میں نے کہا آپ کو دے آؤں۔آپ یہ دودھ پی لیں۔آپ کو شاید دودھ کی عادت ہوگی۔اس لئے یہ دودھ آپ کے لئے لے آیا ہوں سیٹھی صاحب کہا کرتے تھے کہ میری آنکھوں میں آنسو امڈ آئے کہ سبحان اللہ کیا اخلاق ہیں ! یہ خدا کا برگزیدہ صیح اپنے ادنیٰ خادموں تک کی خدمت اور دلداری میں کتنی لذت پاتا اور کتنی تکلیف اٹھاتا ہے۔(سیرۃ المہدی جلد ا حصہ سوم صفحہ ۷۷۰ روایت ۸۶۸)