سیرت طیبہ — Page 291
۲۹۱ عام نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد رضوانِ الہی کا خاص طور پر علیحدہ صورت میں ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ فرمایا وَرِضْوَانٌ منَ اللهِ أَكْبَرُ (سورۃ توبہ آیت ۷۲) یعنی جنت کی نعمتوں میں خدا تعالیٰ کی رضا سب سے اعلیٰ نعمت ہے اور یہی ہر سچے مومن کے سلوک کا منتہی ہونا چاہیئے کہ وہ ”حور و قصور“ کی جنت کے پیچھے لگنے کی بجائے خالقِ ارض و سما کی بے لوث محبت کی فضاؤں میں بسیرا کرے۔(۲۱) محبت محبت کو کھینچتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا اور اس کے محبوب حضرت افضل الرسل محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی) سے ایسی شدید محبت کی جو حقیقۂ بے مثال تھی اور پھر ان دو محبتوں کے نتیجہ میں آپ نے مخلوق کی ہمدردی اور شفقت کو بھی انتہاء تک پہنچا دیا۔اس سہ گونہ محبت کے نتیجہ میں آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی مخلص جماعت عطا فرمائی جو آپ کے ساتھ غیر معمولی اخلاص اور عقیدت کے جذبات رکھتی تھی اور اپنے ایمان کی مضبوطی اور اپنے جذ بہ قربانی اور معیار اطاعت میں خدا کے فضل سے صحابہ کے رنگ میں رنگین تھی۔اور مخالفوں کی انتہائی مخالفت کے باوجود یہ الہی جماعت برابر ترقی کرتی چلی گئی اور اللہ تعالیٰ نے اسے ہر رنگ میں بار آور اور برومند کیا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود کی وفات کے وقت آپ کے یہ حلقہ بگوش فدائی چار لاکھ کی تعداد کو پہنچ چکے تھے۔اور ان میں سے ہر ایک حضرت مسیح موعود پر