سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 292 of 315

سیرت طیبہ — Page 292

۲۹۲ اس طرح جان دیتا تھا جس طرح ایک پروانہ شمع کے گرد گھومتا ہوا جان دیتا ہے۔اور یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ حضرت مسیح ناصری کی اس قلیل سی جماعت کے مقابلہ پر جو انہیں اپنی زندگی کے ایام میں میسر آئی مسیح محمدی کی اس کثیر التعداد جماعت کا مقامِ محبت اور اخلاص اور ایمان اور جذ بہ قربانی کتنا بلند تھا! میں اس جگہ صرف مثال کے طور پر پانچ احمد یوں کا ذکر کرتا ہوں جو جماعت احمدیہ کے مختلف طبقات سے تعلق رکھتے تھے اور یقیناوہ سب کے سب ایسے نہیں تھے جو جماعت کے چوٹی کے ممبر سمجھے جاتے ہوں بلکہ ان میں سے بعض تو ایسے عام احمدیوں میں سے تھے جنہیں شاید جماعت کے اکثر دوست جانتے بھی نہیں۔ان میں سب سے اول نمبر پر حضرت مولوی نورالدین صاحب تھے جو غیر منقسم ہندوستان کے مشہور ترین علماء اور قابل ترین اطباء میں شمار کئے جاتے تھے انہوں نے بیعت کا سلسلہ شروع ہوتے ہی پہلے نمبر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی اور پھر حضور پر ایسے گرویدہ ہوئے کہ اپنا وطن چھوڑ کر قادیان میں ہی دھونی رما کر بیٹھ گئے۔اور حضرت مسیح موعود کی وفات پر جماعت احمدیہ کے پہلے خلیفہ بنے۔ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کا معیار ایسا شاندار اور ایسا بلند تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ ان کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ میرے پیچھے اس طرح چلتے ہیں جس طرح کہ انسان کے ہاتھ کی نبض اُس کے دل کی حرکت کے پیچھے چلتی ہے۔آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ ص ۵۸۶ ترجمه از عربی ) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب حضرت مسیح موعود نے دلی سے حضرت مولوی نور