سیرت طیبہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 290 of 315

سیرت طیبہ — Page 290

۲۹۰ محبت سے محروم رہے۔بہر حال یہ وہ بہشت ہے جس کے لئے حضرت مسیح موعود نے جزا سزا کے خیال سے بالکل بالا ہو کر دین کی خدمت کی اور اسلام کا بول بالا کرنے کے لئے اپنی جان کی بازی لگادی اور یہی وہ بہشت ہے جس میں حضور اپنے آقا اور مقتدا اور محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جزا سزا کے دن خدا کے فضل سے جگہ پائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی ایک نظم میں خدا تعالیٰ کی محبت کے گن گاتے ہوئے کیا خوب فرمایا ہے کہ ہراک عاشق نے ہے اک بت بنایا ہمارے دل میں یہ دلبر سمایا وہی آرام جاں اور دل کو بھایا وہی جس کو کہیں رب البرايا مجھے اس یار سے پیوندِ جاں ہے وہی جنت وہی دارالاماں ہے بیاں اس کا کروں طاقت کہاں ہے محبت کا تو اک دریا رواں ہے بے شک اُخروی زندگی کی جنت بھی حق ہے اور دوزخ بھی حق ہے اور مومن اور کافر اپنے اپنے ایمان اور اعمال کے مطابق اس جنت و دوزخ میں جگہ پائیں گے مگر نبیوں اور رسولوں کی حقیقی جنت صرف خدا کی محبت اور خدا کے عشق میں ہوتی ہے بلکہ عام صلحاء کے لئے بھی اصل مقام رضائے الہی کا ہے اس لئے قرآن مجید میں جنت کی