سیرت طیبہ — Page 250
۲۵۰ طرح آنکھوں کو خیرہ کرنے والی تیزی ہے جس کی حدت اور رعب کی وجہ سے کسی کی مجال نہیں کہ اس کو طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے۔اور دوسرے میں چاند کی سی ٹھنڈک اور دلر بائی ہے جو دیکھنے والے کو مسحور کر کے رکھ دیتی ہے اور خدا کی بار یک در بار یک حکمت نے نقاضہ کیا کہ اپنے رسولوں اور نبیوں میں بھی اسی جلال و جمال کا دور چلائے۔چنانچہ باوجود اس کے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی ایک ہی سلسلہ کے نبی تھے اور ایک ہی شریعت کے تابع تھے مگر دونوں کے زمانوں اور ان زمانوں کے الگ الگ حالات نے تقاضا کیا کہ حضرت موسیٰ کونئی شریعت کے ساتھ جلالی شان میں بھجوا یا جائے اور حضرت عیسی کو جمالی شان میں موسوی شریعت کی خدمت اور اشاعت کے لئے مبعوث کیا جائے۔حضرت عیسی نے اپنی اس تابع حیثیت کو خود بھی انجیل میں بر ملاطور پر تسلیم کیا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں یہ نہ سمجھو کہ میں توراۃ یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ( یعنی جب تک نئی روحانی زمین اور نیا روحانی آسمان پیدا نہ ہو جائے جو محمد رسول اللہ صلعم اور قرآنی شریعت کے ذریعہ پیدا ہو گیا ) ایک نقطہ یا ایک شوشہ تورات سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے۔“ (متی باب ۵۔آیت ۱۷ و ۱۸) جلال و جمال کا یہی لطیف دور محمدی سلسلہ میں بھی چلتا ہے چنانچہ ہمارے آقا