سیرت طیبہ — Page 249
۲۴۹ چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بے کل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۵۲) د یعنی چودھویں کے چاند کے حسن اور دلکشی اور دار بائی اور ٹھنڈک اور اس کی مسحور کر دینے والی تاثیر کو دیکھ کر میں کل رات بالکل بے چین ہو گیا کیونکہ اس میں میرے آسمانی معشوق اور خالقِ فطرت کے حسن و جمال کی 66 کچھ کچھ جھلک نظر آتی تھی۔“ اسی نظم میں آگے چل کر آپ خدا کے عشق میں متوالے ہو کر فرماتے ہیں ایک دم بھی کل نہیں پڑتی مجھے تیرے سوا جاں گھٹی جاتی ہے جیسے دل گھٹے بیمار کا شور کیسا ہے ترے کوچہ میں لے جلدی خبر خوں نہ ہو جائے کسی دیوانہ مجنوں وار کا (1) حق یہ ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز کے حسن و جمال کا منبع صرف اور صرف خدا کی ذاتِ والا صفات ہے۔وہی دنیا کی چیزوں کو جمال کی دلکشی عطا کرتا ہے اور وہی ہے جو ان کو جلال کی شان وشوکت سے زینت بخشتا ہے۔ایک میں سورج کی روشنی کی