سیرت طیبہ — Page 251
۲۵۱ حضرت سرور کائنات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ نفسی ) جلالی شان میں ظاہر ہوئے جن کے نور نے آسمانی بجلی کی چمک کی طرح دیکھتے ہی دیکھتے سارے عرب بلکہ اس وقت کی ساری معلوم دنیا کو اپنی ضیا پاش کرنوں سے اس طرح منور کر دیا کہ اقوام عالم کی آنکھیں خیرہ ہو کر رہ گئیں۔مگر آپ کے خادم اور ظلن کامل مسیح محمدی آبانی سلسلہ احمدیہ نے پہلی رات کے چاند کی طرح اپنی ٹھنڈی ٹھنڈی کرنوں کے ساتھ طلوع کیا اور اب آہستہ آہستہ بدر کامل بنتے ہوئے دنیا کے کناروں تک دیکھنے والوں کی آنکھوں پر جادو کرتا چلا جارہا ہے۔الہی سلسلوں میں جلال و جمال کا نظام خدا تعالیٰ کی عجیب وغریب حکمت پر مبنی ہے جب خدا نے کسی نئی شریعت کے نزول کے ذریعہ دنیا میں کوئی نیا سلسلہ قائم کرنا ہوتا ہے تو اس وقت اس کی سنت یہ ہے کہ وہ کسی جلالی مصلح کو مبعوث فرماتا ہے جو اپنی پختہ تنظیم اور مضبوط نظم ونسق کے ذریعہ ایک نئی جماعت کی بنیا درکھ کر اسے خدا کی نازل کردہ جدید شریعت پر قائم کر دیتا ہے جس کے لئے کسی نہ کسی رنگ میں حکومت کے نظام کی ضرورت ہوتی ہے مگر جب کسی نئی شریعت کا نزول مقصود نہیں ہوتا بلکہ صرف سابقہ شریعت کی خدمت اور بگڑے ہوئے عقائد کی اصلاح اور قوم کی روحانی اور اخلاقی تربیت اصل غرض و غایت ہوتی ہے تو ایسے وقت میں جمالی مصلح مبعوث کیا جاتا ہے جو محبت اور نصیحت اور فروتنی اور تربیت اور اصلاحی پروگرام کے ذریعہ اپنا کام کرتا ہے مگر بہر حال دعاؤں اور معجزات کا سلسلہ دونوں نظاموں میں یکساں جاری رہتا ہے۔کیونکہ یہی دو چیزیں ہر روحانی نظام کی جان ہیں۔حضرت موسیٰ جلالی شان کے ساتھ ظاہر ہوئے اور ان کے چودہ سو سال بعد