سیرت طیبہ — Page 195
۱۹۵ صرف ہندوستان کے علماء کو چیلنج کیا کہ وہ میرے مقابلہ پر آکر عربی زبان میں ایسی کتابیں لکھ کر پیش کریں جو اد بی معیار کے لحاظ سے بھی اور اپنے حسنِ معانی اور روحانی اور اخلاقی لطائف وغرائب کے لحاظ سے بھی لا جواب ہوں بلکہ آپ نے مصر اور شام اور عرب کے علماء کو بھی چیلنج کیا کہ اگر انہیں میرے خدا دامشن کے متعلق شک ہے اور اس نصرت النبی کے متعلق شبہ ہے جو خدا کی طرف سے مجھے حاصل ہو رہی ہے تو اور باتوں کو چھوڑ کر صرف اسی بات میں میرے دعوی کو آزما لیں کہ وہ میرے مقابلہ پر آکر عربی زبان میں جو خود ان کی اپنی زبان ہے میرے جیسا فصیح و بلیغ عربی کلام جو اسی طرح معنوی محاسن سے بھی لبریز ہو دنیا کے سامنے پیش کریں۔مگر کیا ہندوستان اور کیا مصر اور کیا شام اور کیا عرب سب کے سب اس خدائی چیلنج پر بالکل خاموش ہو گئے اور حضرت مسیح موعود کی عربی لنظم و نثر کے مقابلہ پر اپنا کلام پیش کرنے سے عاجز رہے۔یہ ایک زبردست نشان اور ایک عظیم الشان علمی معجزہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر خدا نے ظاہر فرمایا کہ گویا ایک اُمّی کے مقابلہ پر علماء و فضلاء کے منہ بند کر دیئے۔دنیا جانتی ہے کہ عربی ادب کے میدان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ابتداء کوئی درجہ حاصل نہیں تھا بلکہ کسی علم کے لحاظ سے تو آپ اپنے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح قریباً قریباً امی ہی تھے اور سوائے چند معمولی ابتدائی درسی کتابوں کے کوئی علم نہیں رکھتے تھے مگر جب خدا نے آپ کو اسلام کی خدمت کے لئے چنا اور دنیا کی اصلاح کے لئے مامور کیا اور خود آپ کا استاد بنا تو پھر اس نے اسی اُمّی کو دنیا بھر کے عالموں اور فاضلوں کا استاد بنا دیا اور اپنی خاص قدرت بلکہ خاص الخاص معجزه