سیرت طیبہ — Page 194
۱۹۴ جلسہ کی رپورٹ کی اشاعت تک تو ملتے ملاتے رہے مگر اس کے بعد معلوم نہیں کہ وہ کیا ہوئے اور کہاں گئے گویا خدائی قدرت کا ہاتھ انہیں اسی خدمت کی غرض سے قادیان لایا تھا اور پھر پہلے کی طرح غائب کر دیا۔(۱۲) اسلام کی ہمہ گیر اور فاتحانہ تبلیغ کے لئے عربی زبان کا اعلیٰ درجہ کا علم ضروری ہے کیونکہ قرآن عربی زبان میں نازل ہوا تھا اور وہ ایک عجیب وغریب روحانی عالم کی حیثیت رکھتا ہے جس میں بے شمار خزانے مدفون ہیں جو غور کرنے والوں کے لئے وقتاً فوقع نکلتے رہتے ہیں اور خدا کے فضل سے آئندہ بھی قیامت تک نکلتے رہیں گے۔اور گو قرآن کی محکم اور بنیادی تعلیم ایک ہی ہے اور ایک ہی رہے گی مگر نئے نئے انکشافات کے ذریعہ خدا قرآن ہی کی برکت سے ہر قوم اور ہر زمانہ کی روحانی اور اخلاقی ضروریات کو پورا فرما تار ہے گا لیکن دوسری طرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا عربی زبان کا درسی علم بہت محدود تھا بلکہ ایک جگہ خود آپ نے اپنے درسی علم کے متعلق لکھا کہ محض شد بود تک محدود تھا ( نجم الہدی ص ۱۹) لیکن جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دل و دماغ میں ایک عالمگیر مصلح کا جو ہر پاکر حضور کو اپنی خاص تربیت میں لے لیا تو دوسرے کمالات بخشنے کے علاوہ قرآنی علوم کی اشاعت کے لئے عربی زبان میں بھی معجزانہ طریق پر کمال کا مرتبہ عطا فر ما یا حتی کہ آپ نے عربی زبان میں کثیر التعداد اعلیٰ درجہ کی نہایت فصیح و بلیغ کتابیں لکھیں اور خدا سے اذن پا کر نہ